Sindh

Sindh

Wednesday, 5 January 2022

مارنے مٹانے پے تلے ہیں کیوں..... شیخ ایاز

 


مارنے  مٹانے پے تلے ہیں کیوں


 

ایک دوسرے کو کیون

مارنے  مٹانے پے تلے ہیں کیوں

ایک دوسرے کے ساتھ کیوں

جی نہیں پائیں ہیں ہم

ایک دوسرے کا کیوں

نہ ہاتھ تھامیں ہیں ہم

ایک دوسرے کو کیوں

نہ پاس بٹھائیں ہیں ہم

جان کر اصلیت اپنی

اورحقیقت جہان فانی

ایک دوسرے کو کیوں

نہ گلے لگائیں ہیں ہم

اکشر


یہ کالے گلاب تو نہیں تھے!......اے آہو چشم کدھر ۔۔۔۔ شیخ ایاز



یہ کالے گلاب تو نہیں تھے!

شاید گھائل پرندے کو کالے گلاب ایسے ہی

 نظر آتے ہیں۔

شاید مصور کی محبوبہ انتقال کرگئی تھی۔

یا اس سے بے وفائی کر گئی تھی۔

 

اے آہو چشم کدھر ۔۔۔۔ شیخ ایاز





GEMS FROM JAMSHED (Daily Thoughts) ..... a page from ....





GEMS FROM JAMSHED                                              

(Daily Thoughts)

JANUARY


Emotional waves do not constitute the strength in social work. Social security needs a right outlook, a practical technique, human understanding, strong organization and dedication.

The true aim of social work is to give opportunities, amenities and right direction to those who lack these to enable them to take a step forward in life,

Man desires to increase his store of money and comfort. Instead let us attempt to increase the general store-house of knowledge, goodness, purity, harmlessness, devotion and cheerfulness.

Rest not. Life is passing by. Do the right whatever be tide.

From suffering, form seeming misfortune, have this knowledge and faith that something good will be the final outcome.

Haste not years cannot atone for one thought less action done.

It is the accumulation of small wrongs done continuously that breaks one. Big mistakes are rectified. Check the first small error.

There is nothing so, kingly as kindness.

Do not consider kindness a special virtue to be operated upon sometimes instead kindness ought to be our ordinary, daily expression, at each step and every minute.

Monday, 3 January 2022

میں کسی کو کچھ نہیں سکھا سکتا سقراط



       میں کسی کو کچھ نہیں سکھا سکتا،        

       صرف سوچنے کی ترغیب کے۔      






 

· قناعت قدرتی دولت ہے، عیش و عشرت مصنوعی غربت ہے۔......سقراط



·       قناعت قدرتی دولت ہے، عیش و عشرت مصنوعی غربت ہے۔


 

سچ و جھوٹ میں ہمیشہ تمیز روا رکھنی چاہئے۔۔۔۔۔ سقراط


·       حکمت و دانش لاعلمی کے ادراک میں پنہاں ہے۔

·       انسان کو انصاف و ظلم، اور سچ و جھوٹ میں ہمیشہ تمیز روا رکھنی چاہئے۔

·       جہالت کا مقابلا کرنا چاہئے، اور انفرادی مفاد کو اجتمائی مفاد کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔

·       روح حقیقی مجرد ہے اور جسم سے جدا ہے۔جسم کی موت روح کا خاتمہ نیہں بلکہ اس کی آزادی کی اک راہ ہے، لہذا موت سے ڈرنا حماقت ہے۔   


 

جسم کی موت روح کا خاتمہ نیہں .... سقراط


    روح حقیقی مجرد ہے اور جسم سے جدا ہے۔

جسم کی موت روح کا خاتمہ نیہں 

بلکہ اس کی آزادی کی اک راہ ہے،

 لہذا موت سے ڈرنا حماقت ہے۔