خود علاجی (Self-Medication)
خود علاجی ایک عام مگر
خطرناک عادت ہے جو آج کے معاشرے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی
شخص ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر اپنی بیماری کی تشخیص خود کرے اور اپنی مرضی سے دوا
استعمال کرے۔
بہت سے لوگ وقت کی کمی،
اخراجات کے خوف یا معمولی بیماری سمجھ کر ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ
پرانی نسخوں، انٹرنیٹ کی معلومات یا دوستوں کے مشوروں پر اعتماد کرتے ہوئے دوائیں
استعمال کرنے لگتے ہیں۔ بظاہر یہ طریقہ آسان اور فوری حل معلوم ہوتا ہے، لیکن اس
کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ غلط
تشخیص کا ہے۔ کئی دفعہ ایک معمولی نظر آنے والی علامت دراصل کسی بڑی بیماری کی
نشانی ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص خود سے دوا لے کر علامات کو دبا دے تو بیماری اندر ہی
اندر بڑھ سکتی ہے۔
اسی طرح اینٹی بایوٹک
ادویات کا غلط استعمال ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ جب لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر
اینٹی بایوٹک لیتے ہیں تو جسم میں جراثیم ان ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے
ہیں۔
خود علاجی کا ایک
نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ بعض لوگ ہر چھوٹی تکلیف کے لیے دوا لینے کے عادی ہو جاتے
ہیں۔ اس طرح جسم کی قدرتی مدافعتی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے۔
صرف جسمانی نہیں بلکہ
جذباتی خود علاجی بھی عام ہے۔ لوگ اپنے دکھ اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے نشہ،
ضرورت سے زیادہ کھانا، یا مسلسل مصروفیت کا سہارا لیتے ہیں۔ مگر یہ وقتی سکون تو
دیتے ہیں، اصل مسئلہ حل نہیں کرتے۔
حقیقی صحت اس وقت حاصل
ہوتی ہے جب انسان ذمہ داری، شعور اور درست رہنمائی کے ساتھ اپنی دیکھ بھال کرے۔
ڈاکٹر سے مشورہ، متوازن طرزِ زندگی اور ذہنی سکون ہی اصل علاج ہیں۔