Sindh

Sindh

Thursday, 16 April 2026

خود غرض مطلبی ہیں سارے، ۔۔۔۔ اکشر

 




غزل

خود غرض مطلبی ہیں سارے،
بھلے انساں کہاں ہیں پیارے۔

شہر بھر میں ہجوم ہے لیکن
دل کے رستے ہوئے ہیں خالی سارے۔

دوستی بھی یہاں تجارت ہے،
نفع کے ہیں اصول بس ہمارے۔

چہرے روشن ہیں محفلوں میں مگر
دل کے کمرے ہیں تاریک سارے۔

میں نے ڈھونڈا وفا کو لوگوں میں،
مل گئے مفاد کے ستارے۔

پھر کہیں ایک سادہ سا دل تھا
جس کے انداز تھے تمہارے۔

شاید ایسے ہی چند لوگوں سے
زندہ رہتے ہیں خواب پیارے۔


ہم نے شاید طاقت کو عظمت سمجھنے کی غلطی کر دی ہے ۔۔۔ اکشر

 


ہم نے شاید طاقت کو عظمت سمجھنے کی غلطی کر دی ہے

انسانی تاریخ کے ہر دور میں ایک بنیادی غلط فہمی بار بار دہرائی گئی ہے: طاقت اور عظمت کو ایک ہی چیز سمجھ لینا۔

طاقت انسان کو اختیار دیتی ہے۔ وہ حکومت کرتی ہے، حکم دیتی ہے اور اپنے اثر و رسوخ سے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ طاقت کے پاس دولت، منصب، شہرت اور اختیار ہوتا ہے۔

مگر عظمت کچھ اور ہے۔

عظمت کردار میں ہوتی ہے، فکر میں ہوتی ہے، انسانیت کے لیے قربانی میں ہوتی ہے۔

طاقت انسانوں کو جھکا سکتی ہے،
مگر عظمت انسانوں کو بلند کرتی ہے۔

تاریخ میں بہت سے طاقتور حکمران گزرے ہیں جنہوں نے سلطنتیں قائم کیں، مگر ان کا نام صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود رہ گیا۔ اس کے برعکس ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے پاس کوئی اقتدار نہیں تھا مگر انہوں نے انسانیت کو نئی سمت دی۔

طاقت خوف پیدا کرتی ہے۔
عظمت اعتماد پیدا کرتی ہے۔

طاقت وقتی ہوتی ہے،
عظمت دائمی۔

آج کے دور میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم شہرت، دولت اور اختیار کو عظمت سمجھنے لگے ہیں۔ جبکہ اصل عظمت عاجزی، حکمت، سچائی اور خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

طاقتور ہونا آسان ہے۔
عظیم ہونا مشکل ہے۔

طاقتور شخص لوگوں پر کھڑا ہوتا ہے،
عظیم شخص لوگوں کو اپنے ساتھ اٹھاتا ہے۔

شاید ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم طاقت اور عظمت کے درمیان فرق کو دوبارہ پہچانیں۔

کیونکہ جب معاشرے طاقت کو عظمت سمجھنے لگتے ہیں تو ظلم پیدا ہوتا ہے۔
اور جب عظمت کو قدر دی جاتی ہے تو تہذیب جنم لیتی ہے۔



عقل کی راہوں میں اکثر دھند اتر آتی ہے ۔۔۔ اکشر

 


طویل نظم

عقل کی راہوں میں
اکثر دھند اتر آتی ہے
دلائل کے چراغ جلتے ہیں
مگر روشنی مکمل نہیں ہوتی

سوچ کے جنگل میں
راستے بکھر جاتے ہیں
ہر درخت ایک دلیل بن جاتا ہے
ہر سایہ ایک سوال

عقل کہتی ہے
ٹھہرو
سوچو
تولو
پھر فیصلہ کرو

مگر دل
چپ چاپ
پہلے ہی جان لیتا ہے

جب کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھو
تو دل فوراً پگھل جاتا ہے
عقل ابھی سوال ہی پوچھ رہی ہوتی ہے

جب محبت
بغیر آواز کے
دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے
تو دل اسے پہچان لیتا ہے
عقل ابھی تعریف تلاش کر رہی ہوتی ہے

کتنی عجیب بات ہے
کہ عقل کتابوں میں سچ ڈھونڈتی ہے
اور دل
ایک دھڑکن میں پا لیتا ہے

عقل راستے بناتی ہے
مگر دل انہیں معنی دیتا ہے

عقل کبھی کبھی
خود کو دھوکہ بھی دے دیتی ہے
مگر سچا دل
اپنے اندر کے آئینے کو
دھندلا نہیں ہونے دیتا

اگر کبھی
سوچ کی گلیوں میں
تم بھٹک جاؤ

تو ایک لمحہ رک کر
اپنے دل کی دھڑکن سننا

وہ تمہیں بتائے گی
کہ سچ کس سمت کھڑا ہے

کیونکہ عقل الجھ سکتی ہے
مگر دل
بہت کم جھوٹ بولتا ہے۔


وہ زبان جسے بہرے سن سکتے ہیں اور اندھے دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ اکشر

وہ زبان جسے بہرے سن سکتے ہیں اور اندھے دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ اکشر

دنیا میں ایک ایسی زبان بھی موجود ہے جو لفظوں، آوازوں اور حروف کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ وہ زبان ہے جو دلوں کے درمیان بولی جاتی ہے۔ اسے سننے کے لیے کان ضروری نہیں اور نہ ہی اسے دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ زبان محبت، ہمدردی اور انسانیت کی زبان ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بات چیت صرف الفاظ اور آوازوں کے ذریعے ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے سب سے طاقتور پیغام خاموشی میں پہنچتے ہیں۔ کسی کے کندھے پر رکھا گیا تسلی بھرا ہاتھ، کسی اجنبی کے چہرے پر خلوص بھری مسکراہٹ، یا کسی پریشان انسان کے پاس خاموش بیٹھ جانا — یہ سب وہ جملے ہیں جو بغیر بولے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔

جو لوگ سن نہیں سکتے، وہ بھی مہربانی کے انداز کو محسوس کر لیتے ہیں۔ اور جو دیکھ نہیں سکتے، وہ بھی محبت کے لمس میں روشنی پا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کی اصل زبان وہ ہے جو احساس کے ذریعے سمجھی جاتی ہے۔

یہ زبان کسی ایک قوم، مذہب یا ثقافت کی نہیں۔ یہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگاتی ہے، جب کوئی شخص بھوکے کو کھانا دیتا ہے، یا جب کوئی دوست مشکل وقت میں خاموش ساتھ دیتا ہے، تب یہی زبان بولی جا رہی ہوتی ہے۔

یہی وہ زبان ہے جسے بہرے سن سکتے ہیں اور اندھے دیکھ سکتے ہیں۔


 



Tuesday, 14 April 2026

خود علاجی (Self-Medication) --- AKSHR

 

خود علاجی (Self-Medication)

خود علاجی ایک عام مگر خطرناک عادت ہے جو آج کے معاشرے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر اپنی بیماری کی تشخیص خود کرے اور اپنی مرضی سے دوا استعمال کرے۔

بہت سے لوگ وقت کی کمی، اخراجات کے خوف یا معمولی بیماری سمجھ کر ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ پرانی نسخوں، انٹرنیٹ کی معلومات یا دوستوں کے مشوروں پر اعتماد کرتے ہوئے دوائیں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ بظاہر یہ طریقہ آسان اور فوری حل معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ غلط تشخیص کا ہے۔ کئی دفعہ ایک معمولی نظر آنے والی علامت دراصل کسی بڑی بیماری کی نشانی ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص خود سے دوا لے کر علامات کو دبا دے تو بیماری اندر ہی اندر بڑھ سکتی ہے۔

اسی طرح اینٹی بایوٹک ادویات کا غلط استعمال ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ جب لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بایوٹک لیتے ہیں تو جسم میں جراثیم ان ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔

خود علاجی کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ بعض لوگ ہر چھوٹی تکلیف کے لیے دوا لینے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جسم کی قدرتی مدافعتی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے۔

صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی خود علاجی بھی عام ہے۔ لوگ اپنے دکھ اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے نشہ، ضرورت سے زیادہ کھانا، یا مسلسل مصروفیت کا سہارا لیتے ہیں۔ مگر یہ وقتی سکون تو دیتے ہیں، اصل مسئلہ حل نہیں کرتے۔

حقیقی صحت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان ذمہ داری، شعور اور درست رہنمائی کے ساتھ اپنی دیکھ بھال کرے۔ ڈاکٹر سے مشورہ، متوازن طرزِ زندگی اور ذہنی سکون ہی اصل علاج ہیں۔





Sunday, 12 April 2026

تمہارا گھر روشنی سے بھرا رہے جہاں مسکراہٹ چراغ کی طرح جلتی ہو .... اکشر

 




طویل نظم

دعا ہے
کہ جب بدی کی آندھیاں اٹھیں
تو تمہارا دروازہ
ان کے نقشوں میں شامل نہ ہو۔

دعا ہے
کہ حسد کے قدم
تمہاری گلی تک پہنچتے پہنچتے
اپنا راستہ بھول جائیں۔

کہ نفرت
کسی ویران موڑ پر
خود سے ہی سوال کرتی رہ جائے
اور تمہاری دہلیز تک نہ آئے۔

تمہارا گھر
روشنی سے بھرا رہے
جہاں مسکراہٹ
چراغ کی طرح جلتی ہو
اور مہربانی
ہوا کی طرح بہتی ہو۔

اگر ظلم سفر پر نکلے
تو راستوں کی دھول
اس کی آنکھوں میں بھر جائے۔

اگر بد دعا چل پڑے
تو الفاظ اس کی زبان سے
گر کر ٹوٹ جائیں۔

اور تمہارا گھر
ایک ایسی جگہ بن جائے
جہاں صرف سکون
اپنا راستہ پہچانتا ہو۔

کیا کسی نے دیکھا میرا کو مندر میں .... AKSHR




غزل

کیا کسی نے دیکھا میرا کو مندر میں
وہ تو ملتی ہے عاشقوں کے اندر میں

اس کی پوجا نہ تھی کسی رسم کی قید
آگ جلتی تھی اس کے دل کے سمندر میں

گھنٹیوں سے نہیں جاگا تھا اس کا عشق
نامِ کرشن تھا ہر دھڑکتے منظر میں

لوگ پتھر کے بت کے آگے جھکتے رہے
وہ کھڑی تھی محبت کے سمندر میں

مندر و مسجد کی حدیں ٹوٹ گئیں
جب بھی دیکھا اسے کسی کے دل کے اندر میں

عشق جب حد سے بڑھ گیا آخر

خدا خود اتر آیا اس کے منظر میں