Sindh

Sindh

Wednesday, 7 October 2026

"The Fading of the Spell"

 


"The Fading of the Spell"

For the longest time,
I soared high in an atmosphere
where my very breaths were intoxicated.
It was the intoxication of an illusion...
The belief that the cosmos revolved around me,
That the hand I held would never slip away,
That the walls of security I built could never be breached.
I drank the poison of false anxieties, mistaking it for nectar,
And accepted the fleeting whispers of love as eternal truths.

And then,
Another intoxication took hold of me—
The intoxicating high of feeling "important."
I convinced myself the gathering would grow dark without my light,
That they could not survive without my existence,
That no decision could be carved without my counsel.
I crowned myself with a grand, imaginary crown of indispensability.

But Time...
That silent, relentless traveler,
Who listens to no plea and stops for no king,
Stepped forward without a sound.
It gently lifted the heavy crown from my head
And untied the blindfold of illusion from my eyes.

I opened my eyes and looked around:
The morning arrived just the same, and the sun rose on its own hour.
The gatherings remained vibrant, and laughter still echoed.
The person for whom I was as vital as breath
Was smiling warmly by someone else's side.
And the mighty walls I took pride in had dissolved like sand.

Now I stand here,
Completely grounded, with a mind clear and bare.
Time has washed away every trace of my intoxication.
There are no illusions left to harbor,
No desperate urge to chase ghosts,
No obsession with my own worth, nor a stubborn need to make others vital.
Time has taught me its final, quiet lesson:
Whether the high belongs to a false assumption or a fragile ego,
With time, every intoxication must fade away.


"خمار کا سفر"

 

"خمار کا سفر"

ایک مدت تک
میں اڑتا رہا اس فضا میں
جہاں میری سانسوں کو ایک خمار تھا
ایک وہم کا نشہ۔۔۔
کہ یہ کائنات میرے ہی گرد گھومتی ہے
کہ جو ہاتھ میری گرفت میں ہے، وہ کبھی نہیں چھوٹے گا
کہ جو دیواریں میں نے کھڑی کی ہیں، انہیں کوئی نہیں گرا پائے گا
میں اندیشوں کے زہر کو امرت سمجھ کر پیتا رہا
اور محبت کے جھوٹے دلاسوں کو ابدی سچ مانتا رہا۔

اور پھر،
مجھے ایک اور نشہ چڑھا
خود کو "اہم" سمجھنے کا نشہ!
میں نے سوچا، میرے بغیر یہ بزم اداس رہے گی
میرے بغیر وہ جی نہیں پائے گا
میری رائے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوگا
میں نے اپنے سر پر اہمیت کا ایک فرضی تاج سجا لیا۔

مگر وقت۔۔۔
وہ جو خاموشی سے چلتا رہتا ہے،
نہ کسی کی سنتا ہے، نہ کسی کے لیے رکتا ہے،
اس نے آہستہ سے میرے سر سے وہ تاج اتارا
اور میری آنکھوں پر بندھی وہم کی پٹی کھول دی۔

میں نے دیکھا،
میرے بغیر بھی صبح ہوئی، اور سورج اپنے وقت پر نکلا
بزم چمکتی رہی، اور قہقہے گونجتے رہے
وہ شخص جس کے لیے میں سانسوں کی طرح تھا،
کسی اور کے ساتھ مسکرا رہا تھا
اور وہ دیواریں، جن پر مجھے ناز تھا، ریت کی طرح بکھر چکی تھیں۔

اب میں کھڑا ہوں،
بالکل اکیلا، بالکل صاف دماغ کے ساتھ
وقت نے میرا ہر خمار اتار دیا ہے
نہ اب کوئی وہم باقی ہے،
نہ اب کوئی وہم کے پیچھے بھاگنے کی چاہ،
نہ اپنی اہمیت کا کوئی خبط، نہ کسی اور کو اہم بنانے کی ضد۔
وقت نے مجھے سکھا دیا ہے،
کہ نشہ چاہے گمان کا ہو یا مان کا،
ایک نہ ایک دن اتر ہی جاتا ہے!

Sunday, 13 September 2026



 


الفاظ کی جادوگری اور عمل کا قحط

 



الفاظ کی جادوگری اور عمل کا قحط

سیاہی سے لکھے گئے وعدے،
اور ہوا میں اچھالے گئے بلند بانگ دعوے،
سب ایک ایک کر کے،
خاموشی کے سمندر میں غرق ہو رہے ہیں۔

تم نے کہا تھا:
"
ہم اندھیروں کا سینہ چاک کر کے روشنی لائیں گے!"
مگر تمہارے اپنے گھر کی کھڑکی سے،
آج بھی تاریکی جھانکتی ہے۔

تم نے عدالتوں کے باہر کھڑے ہو کر،
انصاف کے گیت گائے تھے،
مگر جب تمہاری اپنی دہلیز پر مظلوم نے دستک دی،
تو تم نے مصلحت کی چادر اوڑھ لی۔

یہ الفاظ...
کتنے خوبصورت ہیں نا؟
جیسے موتیوں کی مالا،
جیسے ریشم کے دھاگے،
جو کانوں میں رس گھولتے ہیں،
دل کو اک عارضی دلاسا دیتے ہیں۔

مگر سنو!
تاریخ الفاظ کی لغت سے نہیں،
عمل کے خون سے لکھی جاتی ہے۔
تمہاری کتابوں میں درج سچائی،
تمہارے عمل کے کوڑے دان میں سڑ رہی ہے۔

کب تک؟
آخری حد تک پہنچنے سے پہلے،
اپنی زبان کی قید سے باہر نکلو،
اور قدموں کو حرکت دو۔
کیونکہ گونگا عمل،
اُس پکارتے ہوئے جھوٹ سے ہزار درجہ بہتر ہے،
جس کے پیچھے صرف کھوکھلی انا کھڑی ہو۔