Sindh

Sindh

Friday, 10 April 2026

ہم حقیقت کو بھی افسانہ بنا لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اکشر




غزل

ہم حقیقت کو بھی افسانہ بنا لیتے ہیں

 ۔۔۔۔۔۔۔ اکشر

ذہن پر پھر وہی بادل سا چھا جاتا ہے
دل ہر اک نقش کو دھندلا سا بنا جاتا ہے

کان سنتے ہیں مگر زہر سا گھلتا ہے کہیں
ہر نیا لفظ پرانا سا لگ جاتا ہے

بات ہوتی ہے تو الجھتے ہیں مفہوم سبھی
اور ہر اک حرف ہی کانٹا سا چبھ جاتا ہے

دل کی آنکھوں میں اندھیرا سا اتر آتا ہے
روشنی ہو بھی تو سایہ سا بن جاتا ہے

ہم سمجھتے ہیں سبھی لوگ مخالف ہیں یہاں
حالانکہ ذہن ہی رستہ سا بدل جاتا ہے

خامشی شور کے اندر ہی کہیں بولتی ہے
اور سکوت اپنا ہی قصہ سا سنا جاتا ہے

جو بھی سنتے ہیں اسے زخم سمجھ لیتے ہیں
دل کا پیمانہ ہی کچھ اور ناپ جاتا ہے

زبان رُکتی ہے تو طوفان نکل آتا ہے
اور ہر اک لفظ تماشہ سا بن جاتا ہے

ہم حقیقت کو بھی افسانہ بنا لیتے ہیں
جب خیالوں میں دھواں سا بھر جاتا ہے

یہ جو بادل ہیں یہ باہر سے نہیں آتے کبھی
یہ تو اندر کا ہی پردہ سا بن جاتا ہے

ایک لمحے کی سمجھ آ کے سنبھالے تو سب
ورنہ ہر سانس ہی بکھرا سا چلا جاتا ہے

اور پھر آخر میں یہی راز کھلتا ہے کبھی

ذہن جب صاف ہو تو دل بھی سنور جاتا ہے 

“ذہن کے بادل اور دل کی بینائی” ... AKSHR

 




“ذہن کے بادل اور دل کی بینائی

انسان کا ذہن ایک وسیع آسمان کی مانند ہے، جس میں خیالات بادلوں کی طرح آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ لیکن جب یہی بادل حد سے زیادہ گہرے ہو جائیں تو ذہن پر ایک دھند چھا جاتی ہے۔

اس دھند میں سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔ کان جو کچھ سنتے ہیں وہ کھٹکنے لگتا ہے، بات اپنی اصل صورت کھو دیتی ہے۔ زبان صحیح اظہار کی بجائے ردِعمل دینے لگتی ہے، کبھی تلخی میں، کبھی الجھن میں۔ اور دل—جو اصل بصیرت کا مرکز ہے—اندھا سا ہو جاتا ہے۔ وہ احساسات کو صاف طور پر نہیں دیکھ پاتا، بلکہ خوف اور تکلیف کے سائے میں فیصلہ کرتا ہے۔

یہ ذہنی بادل مستقل نہیں ہوتے۔ یہ تب بنتے ہیں جب ہم اپنے اندر شور، دبے ہوئے جذبات اور غیر حل شدہ خیالات جمع کر لیتے ہیں۔ خاموشی، خود آگاہی اور سچائی اس دھند کو چھانٹنے والی ہوائیں ہیں۔

جب ذہن صاف ہو جائے تو کان سننے لگتے ہیں، زبان سمجھنے لگتی ہے، اور دل دوبارہ دیکھنے لگتا ہے۔


A Homeless Man Died of Hunger While Food Was Served at His Funeral .... AKSHR

 


A Homeless Man Died of Hunger While Food Was Served at His Funeral

There is a quiet cruelty hidden inside many societies: people often realize the value of a human life only after it has ended. The tragedy becomes even more painful when a person dies from hunger while food later appears in abundance at their funeral.

Imagine a homeless man living on the margins of society. Day after day he walks through crowded streets where restaurants overflow with meals and houses glow with the comfort of dinner tables. Yet for him, survival is uncertain. His hunger is not only a physical condition but also a symbol of neglect. People pass by him, some with pity, some with indifference, but very few stop to ask whether he has eaten.

One day, his struggle ends—not because the world became kinder, but because his body could no longer fight starvation. The homeless man dies quietly, unnoticed by the same society that surrounded him every day.

Ironically, when people learn of his death, sympathy awakens. A funeral is arranged. Friends, neighbors, and distant acquaintances gather. Plates of food are prepared and shared among the attendees. There is prayer, conversation, and expressions of regret.

But the painful irony remains: the man who needed food the most is no longer there to eat it.

This situation reveals a deep contradiction in human behavior. We often perform acts of kindness publicly but fail to show simple compassion privately. Feeding someone when they are alive requires awareness, empathy, and responsibility. Feeding people at a funeral, however, is easier—it becomes part of tradition rather than a conscious act of mercy.

The story of the homeless man reminds us that compassion delayed is compassion denied. True humanity is not measured by the rituals we perform after someone dies but by the care we offer while they are still alive.

A single loaf of bread at the right moment can save a life. A thousand dishes at a funeral cannot.

If society wishes to honor the dead, it must first learn how to care for the living.


Thursday, 9 April 2026

ہر طرف بس تمہارا ہی جمال آتا ہے ... SHAFAK

 



غزل

دل میں ہر وقت تمہارا ہی خیال آتا ہے
یوں لگے جیسے مجھے تم سے وصال آتا ہے

صبح ہوتی ہے تو تم یاد چلے آتے ہو
شام ڈھلتی ہے تو پھر وہی سوال آتا ہے

کوئی لمحہ بھی تمہارے بنا خالی نہ رہا
ہر طرف بس تمہارا ہی جمال آتا ہے

دور رہ کر بھی تم اتنے مرے دل میں ہو
ہر خیالوں میں تمہارا ہی خیال آتا ہے

یہ محبت کی حقیقت ہے کہ اے دل والے
ہر گھڑی اس کو کسی کا ہی خیال آتا ہے


“Feeding the World Is Cheaper Than Bombing It” --- AKSHR

 



 “Feeding the World Is Cheaper Than Bombing It”

The world often measures strength in weapons, military budgets, and destructive power. Yet, when we look closely at human priorities, a striking truth emerges: feeding the hungry is far less expensive than waging war.

Military conflicts consume trillions of dollars globally—funds used for bombs, missiles, aircraft, and defense systems. Meanwhile, hunger still affects millions of people every day. The paradox is painful: humanity can afford destruction at enormous cost, but struggles to ensure basic nourishment for all.

Feeding the world requires investment in agriculture, food distribution, infrastructure, and fair economic systems. These are not luxuries—they are practical, achievable goals. Studies repeatedly show that a fraction of global military spending could eliminate extreme hunger.

War destroys not only lives but also farmland, supply chains, and future generations. In contrast, food creates stability, peace, and productivity. A well-fed society is less likely to fall into conflict, making food security a foundation of global peace.

Thus, the real question is not whether we can afford to feed everyone—but why we continue to afford war more easily than humanity.


Wednesday, 8 April 2026

جوڑنے کا ہنر سیکھ جائیں۔ AKSHR

 




طویل نظم

زبان نرم سی شے ہے
کوئی ہڈی نہیں اس میں
مگر یہ تلوار بھی بن جاتی ہے
اور مرہم بھی۔

کبھی یہ ماں کی دعا بن کر
بیٹے کی پیشانی پر اترتی ہے
اور تھکے ہوئے دل کو
آسودگی کا لمس دیتی ہے۔

کبھی یہ دوست کی آواز میں
حوصلہ بن کر گونجتی ہے
اور شکستہ قدموں کو
پھر سے سفر پر آمادہ کر دیتی ہے۔

مگر کبھی
اسی زبان سے نکلے ہوئے لفظ
کانچ کے ٹکڑوں کی طرح
دل کے آئینے میں پیوست ہو جاتے ہیں۔

ایک طنز
ایک تلخ جملہ
ایک بے سوچا لفظ
کسی کی پوری زندگی کا سکون چرا لیتا ہے۔

کتنے ہی رشتے
ایک لمحے کی بات سے
ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔

کتنے ہی دل
ایک سخت لفظ کے بوجھ تلے
خاموشی کی قبر میں اتر جاتے ہیں۔

اے انسان!
بولنے سے پہلے سوچ
کیونکہ تیر کمان سے نکل جائے
تو واپس نہیں آتا

اور لفظ
ہونٹوں سے نکل جائے
تو دلوں میں ٹھہر جاتا ہے۔

زبان کو دعا بنا
محبت بنا
روشنی بنا

تاکہ تیرے لفظ
دلوں کو زخمی نہ کریں
بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو
جوڑنے کا ہنر سیکھ جائیں۔


غزل — کیوبزم کے رنگ--- AKSHR




غزل — کیوبزم کے رنگ

ٹوٹے ہوئے زاویوں میں تصویر بناتے ہیں
ہم خواب کو کینوس پہ تعبیر بناتے ہیں

ہر رخ سے نظر آتا ہے اک چہرہ حقیقت کا
ہم وقت کو لمحوں کی زنجیر بناتے ہیں

بکھرے ہوئے رنگوں میں بھی معنی کی چمک دیکھو
ہم خاک کو فن کی نئی تقدیر بناتے ہیں

اک آنکھ ہے ماضی میں، اک حال کے پردے میں
ہم لمحۂ موجود کو تصویر بناتے ہیں

شفقؔ یہ ہنر سیکھا فنکار کی دنیا سے
ہم ٹوٹے ہوئے خواب کو تعبیر بناتے ہیں۔