عجب یہ رسم چلی ہے میرے
ہی خطے میں،
عقیدتیں ہیں مقید وہم
کے برتن میں۔
کہیں پہ دودھ کی ندیاں
بہائی جاتی ہیں،
اور اس طرح سے بلائیں
بھگائی جاتی ہیں!
وہ پاک دودھ جو بچوں کی
ایک جاں تھا کبھی،
وہ جس سے پلتا تھا اک
مفلسِ زماں اوں کبھی۔
وہ بہہ رہا ہے اب ان
پتھروں کے سینوں پر،
جو بولتے ہی نہیں بے حس
و حزیں ہو کر۔
مگر جو مندر کے باہر
اداس بیٹھا ہے،
وہ بچہ بھوک سے اپنی ہی
آس بیٹھا ہے۔
اسے تو ایک ہی قطرہ اگر
جو مل جائے،
تو اس کی مرجاتی ہوئی
زندگی سنبھل جائے۔
عجب جنوں ہے کہ فضلات
کو دوا سمجھیں،
اور اس غلاظتِ حیواں کو
اک شفاء سمجھیں!
کہاں گئی ہے وہ دانش،
کہاں گیا ہے شعور؟
کہ خود کو کرتے ہیں علم
و عقل سے ہم دور۔
سنو اے بستی کے لوگو!
شعور کو جاگو،
خدا کے نام پہ پھیلے
ہوئے اس وہم سے بھاگو۔
جو بھوکے پیٹ کو پالے،
وہی عبادت ہے،
جو گرتے ہوؤں کو
سنبھالے، وہی محبت ہے۔