Sindh

Sindh

Sunday, 3 May 2026

تم تو دل کے تار چھیڑ کر ہو گئے بےخبر... AKSHR

 



غزل

تم تو دل کے تار چھیڑ کر ہو گئے بےخبر
ہم نے ہر اک سُر میں ڈھونڈا ہے تمہارا اثر

ایک لمحہ تم نے یوں ہی مسکرا کر دے دیا
ہم نے اس لمحے میں ڈھونڈی اپنی پوری عمر

خامشی میں بھی سنائی دیتی ہے وہی صدا
تم گئے تو ساتھ لے گئے دل کا ہر ہنر

تم کو شاید یہ خبر بھی ہو نہ پائی آج تک
کس طرح بکھرا ہے اندر اک محبت کا نگر

ہم نے چاہا بھی تو کیسے تم کو بھلا دیتے
ہر طرف پھیلا ہوا ہے تمہاری یاد کا سفر

بےخبری بھی کبھی اتنی حسین ہوتی ہے
ایک دکھ میں بھی چھپا ہوتا ہے جینے کا ہنر

تم تو چلے گئے یونہی چھوڑ کر ہم کو مگر
ہم ابھی تک ہیں اسی دھن میں کہیں دربدر

وہ خواب دے جو میری نیند اُڑا دے ... AKSHR

 


 وہ خواب دے جو میری نیند اُڑا دے

میرے اندر کوئی آگ سی جلا دے

میں سکون کی حدوں سے نکل جاؤں کہیں
کوئی ایسی صدا مجھے بلا دے

یہ جو خاموشی ہے دل کے دریچوں میں بسی
کوئی طوفان بنے اور ہلا دے

میں جو کھویا ہوں خود اپنی ہی دنیا میں کہیں
کوئی آ کر مجھے مجھ سے ملا دے

یہ جو رستے ہیں سب آسان دکھائی دیتے
کوئی مشکل بھی مجھے راستہ دکھا دے

میں اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کروں
کوئی سورج میری راتوں میں اُگا دے

وہ خواب دے جو مجھے چین سے بیٹھنے نہ دے
مگر جینے کا نیا حوصلہ دلا دے


Let me gather your light into syllables, ..... AKSHR

 


Let me gather your light into syllables,

And carve your grace into quiet lines,

So that time may fail to erase you

Where words remember what eyes cannot hold.

If I could lift poetry a little higher,

Give it a pulse stronger than my own—

Then perhaps your beauty would not fade,

But echo in verses yet unborn.


آدمی آدمی کو کیوں کھا رہا ہے؟ ایک خاموش وبا کی تحقیق ۔۔۔ اکشر

 

آدمی آدمی کو کیوں کھا رہا ہے؟ ایک خاموش وبا کی تحقیق

انسان نے جب غار سے نکل کر شہر بسایا تھا تو اس کا خواب تحفظ تھا، اشتراک تھا، اور بقا کا اجتماعی تصور۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب نے لباس بدلا اور فطرت نے اپنا چہرہ چھپا لیا، مگر اپنی جبلّتیں نہیں بدلی۔

"آدمی آدمی کو کھائے جائے ہے" محض شاعری نہیں، یہ ایک سماجی تشخیص ہے۔

یہ کھانا صرف جسمانی نہیںیہ معاشی بھی ہے، نفسیاتی بھی اور ادارہ جاتی بھی۔

کوئی کسی کی مزدوری کھا رہا ہے
کوئی کسی کا حق
کوئی کسی کی عزت
اور کوئی کسی کا مستقبل

یہ بیماری اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دوسرے انسان کو “انسان” نہیں سمجھتا بلکہ “وسیلہ” سمجھ لیتا ہے۔

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جہاں خوف زیادہ ہو، عدم مساوات بڑھے، اور انصاف کمزور ہو جائے، وہاں انسان دوسرے انسان کے لیے درندہ بننے لگتا ہے۔ یہ وبا جنگلوں میں نہیں، دفاتر، عدالتوں، بازاروں اور گھروں میں جنم لیتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آدمی آدمی کو کیوں کھاتا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا کب چھوڑا؟


ایک قطرے کو سمندر نظر آئے کیسے ۔۔۔ اکشر

 


ایک قطرے کو سمندر نظر آئے کیسے

قطرہ اور سمندر بظاہر دو الگ حقیقتیں ہیں، مگر وجود کی گہرائی میں یہ ایک ہی سچائی کے دو روپ ہیں۔ قطرہ اپنی محدودیت میں قید ہوتا ہے، جبکہ سمندر اپنی وسعت میں لا محدود دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک قطرہ سمندر کو دیکھے کیسے؟

یہ دراصل دیکھنے کا مسئلہ نہیں، سمجھنے کا مسئلہ ہے۔ قطرہ اگر اپنے اندر جھانک لے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ بھی اسی پانی کا حصہ ہے جس سے سمندر بنا ہے۔ اس کی ہستی الگ نہیں، بلکہ ایک بڑی ہستی کا جزو ہے۔ انسان بھی اسی قطرے کی مانند ہےمحدود جسم میں لامحدود روح کا حامل۔

جب شعور بیدار ہوتا ہے تو قطرہ اپنے اندر سمندر کو پہچان لیتا ہے۔ تب فاصلے مٹ جاتے ہیں، اور قطرہ سمندر کو باہر نہیں، اپنے اندر دیکھنے لگتا ہے۔


ایسا ملا سمندر کہ کچھ اور پیاسا کر گیا ۔۔۔ اکشر

 

ایسا ملا سمندر کہ کچھ اور پیاسا کر گیا

سمندر ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک علامت رہا ہےوسعت کی، بےکراں گہرائی کی، اور ایسی حقیقت کی جس کے سامنے انسانی خواہشیں چھوٹی پڑ جاتی ہیں۔ میں بھی ایک دن اسی امید کے ساتھ اس کے کنارے پہنچا تھا کہ شاید اس کی وسعت میری اندرونی پیاس کو بجھا دے گی۔ مگر وہاں پہنچ کر جو تجربہ ہوا وہ توقع کے بالکل برعکس تھا۔

سمندر سامنے تھا، مگر وہ صرف پانی کا پھیلاؤ نہیں تھا۔ وہ ایک سوال بن کر کھڑا تھا۔ اس کی لہریں جیسے کسی ان دیکھی زبان میں مجھ سے بات کر رہی تھیں، مگر اس زبان کا کوئی ترجمہ ممکن نہ تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ جس چیز کو میں سکون سمجھ کر آیا تھا، وہ دراصل بےچینی کی ایک نئی شکل تھی۔

میں نے پانی کو چھوا تو لگا جیسے ہاتھ میں ٹھنڈک نہیں آئی بلکہ ایک اور خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ یہ عجیب بات تھی کہ جتنا میں اس کے قریب ہوتا گیا، اتنا ہی اپنے آپ سے دور ہوتا گیا۔ یوں لگا جیسے سمندر میری پیاس بجھانے نہیں آیا بلکہ میری پیاس کو شناخت دینے آیا ہو۔

میں نے سوچا، شاید سمندر باہر نہیں، اندر ہے۔ شاید یہ وسعت جو میں باہر دیکھ رہا ہوں، وہی میرے اندر کی نا مکمل خواہشوں کی تصویر ہے۔ انسان جس چیز کو باہر ڈھونڈتا ہے، وہ اکثر اس کے اندر ہی کسی شکل میں موجود ہوتی ہے، مگر غیر مکمل اور بےنام۔

سمندر نے مجھے خاموشی سکھائی۔ ایسی خاموشی جس میں سوال ختم نہیں ہوتے، بلکہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ وہاں ہر لہر یہ کہہ رہی تھی کہ حقیقت سکون نہیں، بلکہ مسلسل تلاش ہے۔ اور شاید انسان کی اصل حالت ہی پیاس ہےایسی پیاس جو کبھی مکمل طور پر بجھتی نہیں۔

واپسی پر میں پہلے سے زیادہ خالی نہیں تھا، بلکہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا تھاسوالات سے، بےیقینی سے، اور ایک ایسی سمجھ سے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔

میں نے جان لیا کہ سمندر پیاس نہیں بجھاتا، وہ پیاس کو بیدار کرتا ہے۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ وہ انسان کو اس کی اپنی گہرائی سے ملا دیتا ہے۔

رقص میں ہے سارا جہاں ۔۔۔ اکشر

 


🌿 رقص میں ہے سارا جہاں  

رقص صرف جسم کی حرکت نہیں، یہ کائنات کی خاموش زبان ہے۔ ہر ذرّہ، ہر موج، ہر ستارہ اپنے اپنے انداز میں ناچ رہا ہے۔ کبھی یہ حرکت کہکشاؤں کی گردش میں دکھائی دیتی ہے، کبھی سمندر کی لہروں میں، کبھی ہوا کے بے نام جھونکوں میں، اور کبھی انسان کے دل کی دھڑکن میں۔

انسان جب رقص کرتا ہے تو وہ دراصل کائنات کے اُس بنیادی اصول کو چھو لیتا ہے جس میں ہر شے حرکت میں ہے۔ رقص ایک ایسا شعور ہے جو لفظوں سے آزاد ہو کر وجود کی گہرائی میں اتر جاتا ہے۔ یہ خوشی کا اظہار بھی ہے، درد کی زبان بھی، اور عبادت کی ایک خاموش صورت بھی۔

اگر غور کیا جائے تو کائنات خود ایک مسلسل رقص ہےکبھی پھیلتی ہوئی سانس کی طرح، کبھی سکڑتی ہوئی یاد کی طرح، کبھی کسی گم شدہ دُھن کی مانند۔ انسان جب اس رقص میں شامل ہو جاتا ہے تو وہ اپنی انفرادیت کھو کر کُل کا حصہ بن جاتا ہے۔