ہم نے شاید
طاقت کو عظمت سمجھنے کی غلطی کر دی ہے
انسانی تاریخ کے ہر دور میں ایک
بنیادی غلط فہمی بار بار دہرائی گئی ہے: طاقت اور عظمت کو ایک ہی چیز سمجھ لینا۔
طاقت انسان کو اختیار دیتی ہے۔ وہ
حکومت کرتی ہے، حکم دیتی ہے اور اپنے اثر و رسوخ سے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ طاقت
کے پاس دولت، منصب، شہرت اور اختیار ہوتا ہے۔
مگر عظمت کچھ اور ہے۔
عظمت کردار میں ہوتی ہے، فکر میں ہوتی
ہے، انسانیت کے لیے قربانی میں ہوتی ہے۔
طاقت انسانوں کو جھکا سکتی ہے،
مگر عظمت انسانوں کو بلند کرتی ہے۔
تاریخ میں بہت سے طاقتور حکمران گزرے
ہیں جنہوں نے سلطنتیں قائم کیں، مگر ان کا نام صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود رہ
گیا۔ اس کے برعکس ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کے پاس کوئی اقتدار نہیں تھا مگر انہوں
نے انسانیت کو نئی سمت دی۔
طاقت خوف پیدا کرتی ہے۔
عظمت اعتماد پیدا کرتی ہے۔
طاقت وقتی ہوتی ہے،
عظمت دائمی۔
آج کے دور میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم
شہرت، دولت اور اختیار کو عظمت سمجھنے لگے ہیں۔ جبکہ اصل عظمت عاجزی، حکمت، سچائی
اور خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
طاقتور ہونا آسان ہے۔
عظیم ہونا مشکل ہے۔
طاقتور شخص لوگوں پر کھڑا ہوتا ہے،
عظیم شخص لوگوں کو اپنے ساتھ اٹھاتا
ہے۔
شاید ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ
ہم طاقت اور عظمت کے درمیان فرق کو دوبارہ پہچانیں۔
کیونکہ جب معاشرے طاقت کو عظمت سمجھنے
لگتے ہیں تو ظلم پیدا ہوتا ہے۔
اور جب عظمت کو قدر دی جاتی ہے تو
تہذیب جنم لیتی ہے۔