جاہل کو اگر جَھل کا انعام دیا جائے
معاشرہ صرف علم سے نہیں بنتا، ظرف سے
بنتا ہے۔
کتابیں انسان کو معلومات دیتی ہیں،
مگر شعور اُسے انسان بناتا ہے۔ جب جاہل کو عزت، اختیار اور انعام ملنے لگے، تو پھر
معاشرے کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں۔ کیونکہ جاہل صرف لاعلم نہیں ہوتا، وہ اکثر اپنی
لاعلمی پر فخر بھی کرتا ہے۔ اور جب لاعلمی کو جشن بنا دیا جائے، تو دانائی خاموش
ہو جاتی ہے۔
آج کا المیہ یہی ہے کہ قابلیت کے
بجائے شور کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ سچائی کے بجائے نمائش کو، اور کردار کے بجائے
تعلقات کو۔ ایسے میں اگر کسی جاہل کو اس کی جہالت پر انعام مل جائے تو یہ صرف ایک
فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پورے سماج کی شکست ہے۔
یہ حادثۂ حسن ہے — ایک ایسا سانحہ جس
میں بدصورتی کو حسن کا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔
کم ظرف انسان کے ہاتھ میں اگر جام آ
جائے تو وہ مے کی حرمت نہیں سمجھتا۔ وہ اسے نشہ سمجھتا ہے، شعور نہیں۔ اختیار جب
کم ظرف کے پاس پہنچتا ہے تو وہ خدمت کے بجائے انتقام کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ دولت
اُس کے اندر عاجزی پیدا نہیں کرتی بلکہ غرور بڑھا دیتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں دشمنوں سے کم،
اپنے کم ظرف حکمرانوں اور جاہل دانشوروں سے زیادہ تباہ ہوئیں۔
جہاں میرٹ مر جائے، وہاں چاپلوسی جنم
لیتی ہے۔
جہاں شعور بک جائے، وہاں تماشا شروع
ہو جاتا ہے۔
آج سوشل میڈیا کے زمانے میں ہر شخص
دانشور بننے کی کوشش میں ہے۔ علم کم، دعوے زیادہ ہیں۔ ہر طرف لفظوں کا شور ہے مگر
معنی کی خاموشی۔ ایسے ماحول میں اصل اہلِ علم اکثر تنہا رہ جاتے ہیں کیونکہ بازار
ہمیشہ شور بیچتا ہے، سکوت نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظرف کو
اہمیت دیں، کردار کو عزت دیں، اور علم کے ساتھ اخلاق کو بھی معیار بنائیں۔ ورنہ وہ
دن دور نہیں جب جہالت کو ہی عقل کا نام دے دیا جائے گا۔