Sindh

Sindh

Wednesday, 6 May 2026

PEACE NOT WAR -- THERE IS ABUNDANCE .... AKSHR

 



PEACE NOT WAR -- THERE IS ABUNDANCE 

There is abundance,
not hidden in vaults of kings,
but scattered in open skies
and silent growing things.

The river does not hoard its flow,
nor does the sun demand a price,
yet man builds walls around the wind
and calls it sacrifice.

Peace is not a fragile dream,
nor something far and small—
it is the truth we overlook
when fear begins to call.

For every blade of grass that grows,
for every breath we take,
there is enough for all the world
if greed learns how to break.

So lay your weapons at the thought
that someone must lose for you to win,
for abundance was never absent—
it was buried deep within.

 

Love All, Hate None .... AKSHR




Love All, Hate None

Love all…
for every heart
is carrying an invisible wound.

Hate none…
for hatred is a fire
that burns the hand
before it reaches another soul.

The earth is already tired
of wars written in human blood,
of borders built from fear,
of voices sharpened into knives.

Somewhere,
a child still believes
the world is kind.

Do not disappoint that child.

Be the reason
someone trusts humanity again.

Love the broken,
the lonely,
the misunderstood,
the stranger standing silently
at the edge of the crowd.

The trees never ask
who deserves shade.
The rivers never ask
who deserves water.

Then why does man
divide love?

One gentle word
can rescue a drowning spirit.
One act of kindness
can outlive a thousand monuments.

Love all…
not because the world is perfect,
but because hatred
has already destroyed too much.

And when your final day arrives,
may it be said:

Here lived a soul
who left no darkness behind,

only light. 

Sunday, 3 May 2026

تم تو دل کے تار چھیڑ کر ہو گئے بےخبر... AKSHR

 



غزل

تم تو دل کے تار چھیڑ کر ہو گئے بےخبر
ہم نے ہر اک سُر میں ڈھونڈا ہے تمہارا اثر

ایک لمحہ تم نے یوں ہی مسکرا کر دے دیا
ہم نے اس لمحے میں ڈھونڈی اپنی پوری عمر

خامشی میں بھی سنائی دیتی ہے وہی صدا
تم گئے تو ساتھ لے گئے دل کا ہر ہنر

تم کو شاید یہ خبر بھی ہو نہ پائی آج تک
کس طرح بکھرا ہے اندر اک محبت کا نگر

ہم نے چاہا بھی تو کیسے تم کو بھلا دیتے
ہر طرف پھیلا ہوا ہے تمہاری یاد کا سفر

بےخبری بھی کبھی اتنی حسین ہوتی ہے
ایک دکھ میں بھی چھپا ہوتا ہے جینے کا ہنر

تم تو چلے گئے یونہی چھوڑ کر ہم کو مگر
ہم ابھی تک ہیں اسی دھن میں کہیں دربدر

وہ خواب دے جو میری نیند اُڑا دے ... AKSHR

 


 وہ خواب دے جو میری نیند اُڑا دے

میرے اندر کوئی آگ سی جلا دے

میں سکون کی حدوں سے نکل جاؤں کہیں
کوئی ایسی صدا مجھے بلا دے

یہ جو خاموشی ہے دل کے دریچوں میں بسی
کوئی طوفان بنے اور ہلا دے

میں جو کھویا ہوں خود اپنی ہی دنیا میں کہیں
کوئی آ کر مجھے مجھ سے ملا دے

یہ جو رستے ہیں سب آسان دکھائی دیتے
کوئی مشکل بھی مجھے راستہ دکھا دے

میں اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کروں
کوئی سورج میری راتوں میں اُگا دے

وہ خواب دے جو مجھے چین سے بیٹھنے نہ دے
مگر جینے کا نیا حوصلہ دلا دے


Let me gather your light into syllables, ..... AKSHR

 


Let me gather your light into syllables,

And carve your grace into quiet lines,

So that time may fail to erase you

Where words remember what eyes cannot hold.

If I could lift poetry a little higher,

Give it a pulse stronger than my own—

Then perhaps your beauty would not fade,

But echo in verses yet unborn.


آدمی آدمی کو کیوں کھا رہا ہے؟ ایک خاموش وبا کی تحقیق ۔۔۔ اکشر

 

آدمی آدمی کو کیوں کھا رہا ہے؟ ایک خاموش وبا کی تحقیق

انسان نے جب غار سے نکل کر شہر بسایا تھا تو اس کا خواب تحفظ تھا، اشتراک تھا، اور بقا کا اجتماعی تصور۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب نے لباس بدلا اور فطرت نے اپنا چہرہ چھپا لیا، مگر اپنی جبلّتیں نہیں بدلی۔

"آدمی آدمی کو کھائے جائے ہے" محض شاعری نہیں، یہ ایک سماجی تشخیص ہے۔

یہ کھانا صرف جسمانی نہیںیہ معاشی بھی ہے، نفسیاتی بھی اور ادارہ جاتی بھی۔

کوئی کسی کی مزدوری کھا رہا ہے
کوئی کسی کا حق
کوئی کسی کی عزت
اور کوئی کسی کا مستقبل

یہ بیماری اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دوسرے انسان کو “انسان” نہیں سمجھتا بلکہ “وسیلہ” سمجھ لیتا ہے۔

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جہاں خوف زیادہ ہو، عدم مساوات بڑھے، اور انصاف کمزور ہو جائے، وہاں انسان دوسرے انسان کے لیے درندہ بننے لگتا ہے۔ یہ وبا جنگلوں میں نہیں، دفاتر، عدالتوں، بازاروں اور گھروں میں جنم لیتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آدمی آدمی کو کیوں کھاتا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا کب چھوڑا؟


ایک قطرے کو سمندر نظر آئے کیسے ۔۔۔ اکشر

 


ایک قطرے کو سمندر نظر آئے کیسے

قطرہ اور سمندر بظاہر دو الگ حقیقتیں ہیں، مگر وجود کی گہرائی میں یہ ایک ہی سچائی کے دو روپ ہیں۔ قطرہ اپنی محدودیت میں قید ہوتا ہے، جبکہ سمندر اپنی وسعت میں لا محدود دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک قطرہ سمندر کو دیکھے کیسے؟

یہ دراصل دیکھنے کا مسئلہ نہیں، سمجھنے کا مسئلہ ہے۔ قطرہ اگر اپنے اندر جھانک لے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ بھی اسی پانی کا حصہ ہے جس سے سمندر بنا ہے۔ اس کی ہستی الگ نہیں، بلکہ ایک بڑی ہستی کا جزو ہے۔ انسان بھی اسی قطرے کی مانند ہےمحدود جسم میں لامحدود روح کا حامل۔

جب شعور بیدار ہوتا ہے تو قطرہ اپنے اندر سمندر کو پہچان لیتا ہے۔ تب فاصلے مٹ جاتے ہیں، اور قطرہ سمندر کو باہر نہیں، اپنے اندر دیکھنے لگتا ہے۔