Sindh

Sindh

Sunday, 13 September 2026



 


الفاظ کی جادوگری اور عمل کا قحط

 



الفاظ کی جادوگری اور عمل کا قحط

سیاہی سے لکھے گئے وعدے،
اور ہوا میں اچھالے گئے بلند بانگ دعوے،
سب ایک ایک کر کے،
خاموشی کے سمندر میں غرق ہو رہے ہیں۔

تم نے کہا تھا:
"
ہم اندھیروں کا سینہ چاک کر کے روشنی لائیں گے!"
مگر تمہارے اپنے گھر کی کھڑکی سے،
آج بھی تاریکی جھانکتی ہے۔

تم نے عدالتوں کے باہر کھڑے ہو کر،
انصاف کے گیت گائے تھے،
مگر جب تمہاری اپنی دہلیز پر مظلوم نے دستک دی،
تو تم نے مصلحت کی چادر اوڑھ لی۔

یہ الفاظ...
کتنے خوبصورت ہیں نا؟
جیسے موتیوں کی مالا،
جیسے ریشم کے دھاگے،
جو کانوں میں رس گھولتے ہیں،
دل کو اک عارضی دلاسا دیتے ہیں۔

مگر سنو!
تاریخ الفاظ کی لغت سے نہیں،
عمل کے خون سے لکھی جاتی ہے۔
تمہاری کتابوں میں درج سچائی،
تمہارے عمل کے کوڑے دان میں سڑ رہی ہے۔

کب تک؟
آخری حد تک پہنچنے سے پہلے،
اپنی زبان کی قید سے باہر نکلو،
اور قدموں کو حرکت دو۔
کیونکہ گونگا عمل،
اُس پکارتے ہوئے جھوٹ سے ہزار درجہ بہتر ہے،
جس کے پیچھے صرف کھوکھلی انا کھڑی ہو۔

Monday, 7 September 2026

نقاد بطور فنکار

 

نقاد بطور فنکار

تنقید کو ہم اکثر فیصلہ سنانے کا نام سمجھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ نقاد وہ شخص ہے جو کسی تخلیق کے سامنے بیٹھ کر اس کی خامیاں تلاش کرتا ہے، خوبیوں کو گنتا ہے، اور آخر میں ایک ایسا فیصلہ صادر کر دیتا ہے جس کے بعد تخلیق کار کو یا تو داد ملتی ہے یا ملامت۔ مگر سچی تنقید اس سے کہیں زیادہ لطیف، پیچیدہ اور تخلیقی عمل ہے۔

ایک عظیم نقاد محض فن پارے کو نہیں دیکھتا؛ وہ اس کے اندر چھپی ہوئی دنیا کو دیکھتا ہے۔

فن کار رنگوں، الفاظ، آوازوں اور صورتوں سے اپنی دنیا تخلیق کرتا ہے، جبکہ نقاد ان تخلیقات کے اندر موجود معنی، امکانات اور خاموش سوالوں کو دریافت کرتا ہے۔ فن کار جو کچھ کہتا ہے، نقاد کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ سن لیتا ہے۔

اسی لیے نقاد بھی ایک فنکار ہو سکتا ہے۔

فن پارہ ایک دروازہ ہے۔ عام نگاہ اس دروازے کو دیکھتی ہے، مگر نقاد اس کے پار موجود منظر کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: یہ حسن کہاں سے آیا؟ یہ اداسی کس تجربے کی پیداوار ہے؟ یہ خاموشی کیا کہہ رہی ہے؟ فن کار نے جو نہیں کہا، وہ کیوں نہیں کہا؟ اور جو کچھ کہا، اسے اسی طرح کیوں کہا؟

یہ سوالات تنقید کو محض فیصلہ نہیں رہنے دیتے؛ وہ اسے تخلیق بنا دیتے ہیں۔

اچھا نقاد فن کار کا دشمن نہیں ہوتا۔ وہ اس کے ساتھ ایک خاموش مکالمے میں داخل ہوتا ہے۔ وہ تخلیق کو توڑنے کے لیے نہیں، اسے زیادہ گہرائی سے سمجھنے کے لیے پڑھتا ہے۔

بعض اوقات نقاد خود ایک نیا فن پارہ تخلیق کر دیتا ہے—وہی تصویر، مگر ایک نئی نظر سے؛ وہی نظم، مگر ایک نئے احساس کے ساتھ؛ وہی ناول، مگر ایک نئی معنوی دنیا میں۔

فن کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی ہے کہ وہ ختم نہیں ہوتا۔ مصور تصویر مکمل کر دیتا ہے، شاعر نظم لکھ دیتا ہے، موسیقار دھن ختم کر دیتا ہے، مگر قاری اور نقاد کے ذہن میں وہ تخلیق دوبارہ پیدا ہوتی رہتی ہے۔

اسی دوبارہ پیدا ہونے کے عمل کا نام تنقید بھی ہے۔

نقاد اگر صرف قواعد کا محافظ بن جائے تو فن مرجھانے لگتا ہے۔ لیکن اگر وہ تخیل کا ساتھی بن جائے تو فن کے نئے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔

فن کار پوچھتا ہے:

میں نے کیا تخلیق کیا؟

نقاد پوچھتا ہے:

اس تخلیق کے ذریعے اور کیا تخلیق کیا جا سکتا ہے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں تنقید فن سے مل جاتی ہے۔

ایک کمزور نقاد کہتا ہے:
یہ اچھا ہے، یہ برا ہے۔

ایک بہتر نقاد پوچھتا ہے:
یہ ایسا کیوں ہے؟

اور ایک عظیم نقاد پوچھتا ہے:
یہ ہمیں انسان، زندگی اور حسن کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

اس لیے تنقید کا اصل مقصد کسی فن پارے کو چھوٹا کرنا نہیں بلکہ اس کی وسعت کو دریافت کرنا ہے۔

سچا نقاد فن کار کی آواز کو دباتا نہیں؛ وہ اسے دور تک پہنچاتا ہے۔

وہ تخلیق کے جسم سے زیادہ اس کی روح کو پڑھتا ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک عظیم تنقید، اصل تخلیق کے برابر ایک مستقل ادبی تخلیق بن جاتی ہے۔

نقاد فن پارے کا جج نہیں؛ اس کا دوسرا خالق ہے۔

فن کار دنیا کو تخلیق کرتا ہے۔

نقاد اس دنیا میں داخل ہو کر اس کے پوشیدہ آسمان دریافت کرتا ہے۔

اور جب وہ واقعی فنکار بن جاتا ہے تو اس کی تنقید بھی ایک نیا فن پارہ بن جاتی ہے۔

Wednesday, 19 August 2026

بندہ بت اکشر

 

عجب یہ رسم چلی ہے میرے ہی خطے میں،
عقیدتیں ہیں مقید وہم کے برتن میں۔
کہیں پہ دودھ کی ندیاں بہائی جاتی ہیں،
اور اس طرح سے بلائیں بھگائی جاتی ہیں!

وہ پاک دودھ جو بچوں کی ایک جاں تھا کبھی،
وہ جس سے پلتا تھا اک مفلسِ زماں اوں کبھی۔
وہ بہہ رہا ہے اب ان پتھروں کے سینوں پر،
جو بولتے ہی نہیں بے حس و حزیں ہو کر۔

مگر جو مندر کے باہر اداس بیٹھا ہے،
وہ بچہ بھوک سے اپنی ہی آس بیٹھا ہے۔
اسے تو ایک ہی قطرہ اگر جو مل جائے،
تو اس کی مرجاتی ہوئی زندگی سنبھل جائے۔

عجب جنوں ہے کہ فضلات کو دوا سمجھیں،
اور اس غلاظتِ حیواں کو اک شفاء سمجھیں!
کہاں گئی ہے وہ دانش، کہاں گیا ہے شعور؟
کہ خود کو کرتے ہیں علم و عقل سے ہم دور۔

سنو اے بستی کے لوگو! شعور کو جاگو،
خدا کے نام پہ پھیلے ہوئے اس وہم سے بھاگو۔
جو بھوکے پیٹ کو پالے، وہی عبادت ہے،
جو گرتے ہوؤں کو سنبھالے، وہی محبت ہے۔



Monday, 17 August 2026

خاموش گواہ ۔۔۔۔ اکشر

 

خاموش گواہ

کمرے کے ایک اندھیرے کونے میں بیٹھی وہ لڑکی،
جس کے گرد لوہے کی بھاری زنجیریں لپٹی ہیں،
یہ زنجیریں لوہے کی نہیں ہیں،
یہ ان الفاظ کا بوجھ ہیں جو اسے وراثت میں ملے،
"تم سے نہیں ہو پائے گا"، "تم ناکام ہو"، "تم ادھوری ہو"۔
ایک ایک لفظ ایک ایک کڑی بن کر اس کے وجود کو جکڑتا گیا،
یہاں تک کہ وہ اپنی ہی سانسوں کے بوجھ تلے دب گئی۔

کاغذ کے بکھرے ہوئے پتے،
اور دیمک لگی پرانی کتابیں،
اس بات کی گواہ ہیں کہ اس نے ہر بار اٹھنے کی کوشش کی،
مگر ملامت اور تنقید کے پتھروں نے اسے پھر سے گرا دیا۔

لیکن سنو!
اسی اندھیرے کے اس پار، ایک سنہری روشنی کا ہالہ ہے،
جہاں پرندوں کے پروں کی مانند کچھ الفاظ تیر رہے ہیں،
امید، محبت، ہمدردی، اور حوصلہ!
یہ الفاظ زنجیریں کاٹنے کا ہنر جانتے ہیں،
یہ روح کو اڑان سکھاتے ہیں،
بوجھل دلوں کو مسکرانا سکھاتے ہیں۔

الفاظ کی اس جنگ میں،
ہر انسان ایک ترازو ہاتھ میں لیے کھڑا ہے،
کوئی زنجیریں بانٹ رہا ہے،
اور کوئی پنکھ تراش رہا ہے۔

"میں نے وقت کو رکتے دیکھا" ـ اکشر

 

 "میں نے وقت کو رکتے دیکھا"

شہر کی رفتار تیز تھی،
اتنی تیز کہ چہرے دھندلا رہے تھے،
گاڑیوں کا شور، قدموں کی چاپ، اور ایک ہجوم
جس میں ہر کوئی ایک دوسرے سے بے خبر،
اپنے اپنے حصار میں گم، بھاگ رہا تھا۔

پھر اچانک
ایک تیز ہوا کا جھونکا چلا،
اور درخت کی اونچی شاخ سے ایک سرخ پتا ٹوٹا۔
وہ پتا، جس پر خزاں کے دستخط تھے،
ہوا کے دوش پر لہراتا ہوا
سیدھا میرے قدموں میں آ گرا۔

اسی ایک سیکنڈ میں،
شہر کا سارا شور یکسر خاموش ہو گیا۔
گاڑیاں رک گئیں، ہجوم غائب ہو گیا،
اور سڑک کا وہ بے جان ٹکڑا ایک کینوس بن گیا۔

میں نے اس پتے کی رگوں میں
پورے موسمِ سرما کی تنہائی کو دیکھا،
میں نے اس کی سرخی میں
گرتے ہوئے سورج کی آخری چمک دیکھی۔

لوگ گزرتے رہے،
جیکٹوں اور کوٹوں کا ایک سمندر تھا جو بہتا رہا،
کسی نے نیچے نہیں دیکھا،
کسی کی نظر اس گرتے ہوئے وجود پر نہیں پڑی۔

مگر میں نے جیب سے قلم نکالا،
اور وقت کے اس بہاؤ کو وہیں روک دیا۔
وہ لمحہ جو ایک سیکنڈ بعد مٹی کا حصہ بننے والا تھا،
اب میری لکیروں میں سانس لے رہا تھا۔
دنیا آگے بڑھ گئی،
مگر میں اس خواب سے باہر نکل آیا،
وہ لمحہ، جو اب ایک نظم بن چکا تھا۔