Sindh

Sindh

Wednesday, 19 August 2026

بندہ بت اکشر

 

عجب یہ رسم چلی ہے میرے ہی خطے میں،
عقیدتیں ہیں مقید وہم کے برتن میں۔
کہیں پہ دودھ کی ندیاں بہائی جاتی ہیں،
اور اس طرح سے بلائیں بھگائی جاتی ہیں!

وہ پاک دودھ جو بچوں کی ایک جاں تھا کبھی،
وہ جس سے پلتا تھا اک مفلسِ زماں اوں کبھی۔
وہ بہہ رہا ہے اب ان پتھروں کے سینوں پر،
جو بولتے ہی نہیں بے حس و حزیں ہو کر۔

مگر جو مندر کے باہر اداس بیٹھا ہے،
وہ بچہ بھوک سے اپنی ہی آس بیٹھا ہے۔
اسے تو ایک ہی قطرہ اگر جو مل جائے،
تو اس کی مرجاتی ہوئی زندگی سنبھل جائے۔

عجب جنوں ہے کہ فضلات کو دوا سمجھیں،
اور اس غلاظتِ حیواں کو اک شفاء سمجھیں!
کہاں گئی ہے وہ دانش، کہاں گیا ہے شعور؟
کہ خود کو کرتے ہیں علم و عقل سے ہم دور۔

سنو اے بستی کے لوگو! شعور کو جاگو،
خدا کے نام پہ پھیلے ہوئے اس وہم سے بھاگو۔
جو بھوکے پیٹ کو پالے، وہی عبادت ہے،
جو گرتے ہوؤں کو سنبھالے، وہی محبت ہے۔



Monday, 17 August 2026

خاموش گواہ ۔۔۔۔ اکشر

 

خاموش گواہ

کمرے کے ایک اندھیرے کونے میں بیٹھی وہ لڑکی،
جس کے گرد لوہے کی بھاری زنجیریں لپٹی ہیں،
یہ زنجیریں لوہے کی نہیں ہیں،
یہ ان الفاظ کا بوجھ ہیں جو اسے وراثت میں ملے،
"تم سے نہیں ہو پائے گا"، "تم ناکام ہو"، "تم ادھوری ہو"۔
ایک ایک لفظ ایک ایک کڑی بن کر اس کے وجود کو جکڑتا گیا،
یہاں تک کہ وہ اپنی ہی سانسوں کے بوجھ تلے دب گئی۔

کاغذ کے بکھرے ہوئے پتے،
اور دیمک لگی پرانی کتابیں،
اس بات کی گواہ ہیں کہ اس نے ہر بار اٹھنے کی کوشش کی،
مگر ملامت اور تنقید کے پتھروں نے اسے پھر سے گرا دیا۔

لیکن سنو!
اسی اندھیرے کے اس پار، ایک سنہری روشنی کا ہالہ ہے،
جہاں پرندوں کے پروں کی مانند کچھ الفاظ تیر رہے ہیں،
امید، محبت، ہمدردی، اور حوصلہ!
یہ الفاظ زنجیریں کاٹنے کا ہنر جانتے ہیں،
یہ روح کو اڑان سکھاتے ہیں،
بوجھل دلوں کو مسکرانا سکھاتے ہیں۔

الفاظ کی اس جنگ میں،
ہر انسان ایک ترازو ہاتھ میں لیے کھڑا ہے،
کوئی زنجیریں بانٹ رہا ہے،
اور کوئی پنکھ تراش رہا ہے۔

"میں نے وقت کو رکتے دیکھا" ـ اکشر

 

 "میں نے وقت کو رکتے دیکھا"

شہر کی رفتار تیز تھی،
اتنی تیز کہ چہرے دھندلا رہے تھے،
گاڑیوں کا شور، قدموں کی چاپ، اور ایک ہجوم
جس میں ہر کوئی ایک دوسرے سے بے خبر،
اپنے اپنے حصار میں گم، بھاگ رہا تھا۔

پھر اچانک
ایک تیز ہوا کا جھونکا چلا،
اور درخت کی اونچی شاخ سے ایک سرخ پتا ٹوٹا۔
وہ پتا، جس پر خزاں کے دستخط تھے،
ہوا کے دوش پر لہراتا ہوا
سیدھا میرے قدموں میں آ گرا۔

اسی ایک سیکنڈ میں،
شہر کا سارا شور یکسر خاموش ہو گیا۔
گاڑیاں رک گئیں، ہجوم غائب ہو گیا،
اور سڑک کا وہ بے جان ٹکڑا ایک کینوس بن گیا۔

میں نے اس پتے کی رگوں میں
پورے موسمِ سرما کی تنہائی کو دیکھا،
میں نے اس کی سرخی میں
گرتے ہوئے سورج کی آخری چمک دیکھی۔

لوگ گزرتے رہے،
جیکٹوں اور کوٹوں کا ایک سمندر تھا جو بہتا رہا،
کسی نے نیچے نہیں دیکھا،
کسی کی نظر اس گرتے ہوئے وجود پر نہیں پڑی۔

مگر میں نے جیب سے قلم نکالا،
اور وقت کے اس بہاؤ کو وہیں روک دیا۔
وہ لمحہ جو ایک سیکنڈ بعد مٹی کا حصہ بننے والا تھا،
اب میری لکیروں میں سانس لے رہا تھا۔
دنیا آگے بڑھ گئی،
مگر میں اس خواب سے باہر نکل آیا،
وہ لمحہ، جو اب ایک نظم بن چکا تھا۔

Saturday, 15 August 2026

1. Dhyan: The Art of Focused Awareness --- AKSHR

 

1. Dhyan: The Art of Focused Awareness

Dhyan (often spelled Dhyana or Dhian) translates directly to meditation, contemplation, or sustained mental focus. Rather than just sitting in silence, Dhyan is an active stabilization of an otherwise chaotic mind.  

·        The Mechanism: The brain naturally generates thousands of wandering thoughts daily. Dhyan gathers this scattered mental energy and channels it toward a single point of focus—whether that is a mantra, the breath, or a divine concept.

·        The Purpose: It quietens the ego and stills the "mental noise". By slowing down the mind, Dhyan creates the necessary space to see reality clearly, acting as the bridge from mundane thinking to higher consciousness.

Wednesday, 5 August 2026

Moving Past the Blame Game: The Power of Stepping Aside --- AKSHR

 

 

Moving Past the Blame Game: The Power of Stepping Aside

Blame is a standstill. It locks two sides into a loop where energy is spent proving points rather than solving problems. When a situation reaches a deadlock, the most powerful move is often the least expected one: stepping aside and letting go.


Saturday, 1 August 2026

خاموش اکر



خاموش اکر

شهر جي چوراهن تي
لفظن جو بازار لڳل آهي،
جتي ڳالهائيندڙ
پنهنجي ڪوڙ کي سچ جو لباس پهرائين ٿا،
۽ ٻڌندڙ
ان شور کي ئي حقيقت سمجهي ويهن ٿا.

پر مون ڏٺو آهي،
سچ ڪڏهن به ان هجوم جو حصو ناهي ٿيندو.

سچ ته ان خاموش ماءُ جي لڙڪن ۾ آهي
جيڪا بنا چوڻ جي سڀ ڪجهه چئي ويندي آهي،
سچ ان ٻڍڙي پيءُ جي هٿن جي ڇانگن ۾ آهي
جيڪو پنهنجي پگهر سان تقدير لکندو آهي،
سچ ان مسافر جي پيرن جي نشانن ۾ آهي
جيڪو اڪيلو اونداهين راهن تي هلندو رهندو آهي.

لفظ ته رڳو هڪ پردو آهن،
جيڪي بدلجندڙ موسمن سان ڦاٽي پوندا آهن.
پر عمل جو لکيل هڪڙو اکر به
ڪڏهن مٽائي نٿو سگهجي.

اي ٻڌندڙو!
جيڪڏهن سچ کي ڳولڻو آهي ته ڪن بند ڪري ڇڏيو،
۽ پنهنجيون اکيون کوليو،
ڇو ته سچ ٻڌو ناهي ويندو،

صرف ڏٺو ويندو آهي. 

Shadows and Sparks ۔۔۔۔ akshr




Shadows and Sparks

The morning carries no promise of flame,
Just the quiet hum of the ordinary,
Until the skin remembers its own name,
And the heavy air begins to carry.

It is not the absence of the dark,
Nor a path completely free of pain,
But the sudden, wild, disruptive spark
That dances through the falling rain.

To feel the lungs expand and fill,
To watch the shifting edge of the tide,
To stand atop a windswept hill,
With nothing left to mask or hide.

The heart is more than a rhythmic clock;
It is a fire waiting to break the stone.
It is the current shattering the dock,
Reminding us we are not bone alone.

We wake from sleep to find the shore,
To taste the salt and meet the sky.
We are not ghosts behind a locked door—
We are the light that refuses to die.