میں کوئی تراشا ہوا بت
نہیں
سنو!
مجھے
سنگِ مرمر کی اس اونچی مصلحت پر مت سجاؤ
جہاں
سانس لینا بھی گناہ ہو،
اور
پلکیں جھکانا ہی عبادت ٹھہرے۔
میں
صدیوں کی اس خاموش کہانی سے بیزار ہوں
جس
میں ہر صفحے پر میری قربانی کا جشن منایا گیا،
اور
میری سسکیاں تمہارے عروض میں دب گئیں۔
میں
ادھوری ہوں،
میں
خواب دیکھتی ہوں تو حد سے گزر جاتی ہوں،
میں غصے
میں ہوں تو میری آواز میں بجلیاں کڑکتی ہیں،
میرے
اندر ایک گہرا، تاریک طوفان بھی ہے
اور
ایک خود غرض دھڑکن بھی۔
تم
نے مجھے "صبر کا پیکر" لکھا،
لیکن
میں نے اپنے ناخنوں سے اس مٹی کو کھریدا ہے،
جہاں
میری آرزوئیں دفن تھیں۔
میری
ہنسی بے باک ہے،
میرا
رونے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔
میں
وہ چینی کا برتن نہیں
جسے
ذرا سی ٹھیس سے بچا کر رکھا جائے،
میں
تو وہ کچی مٹی ہوں
جس
میں دراڑیں بھی ہیں، اور زندگی کی نمی بھی۔
ہاں،
میں خطا کار ہوں،
میں
تمہاری کتابوں کے سیدھے راستوں سے بھٹکنے والی عورت ہوں،
میں
اپنے داغوں کو چھپاتی نہیں،
انہیں
زیور کی طرح پہنتی ہوں۔
کیونکہ
ان دراڑیں کے پار ہی سے
میری
اصل طاقت کا دریا بہتا ہے،
میں
مکمل ہو کر مرنا نہیں چاہتی،
میں
اپنے ادھورے پن کے ساتھ،
آزاد
جینا چاہتی ہوں!