Sindh

Sindh

Sunday, 3 May 2026

ایک قطرے کو سمندر نظر آئے کیسے ۔۔۔ اکشر

 


ایک قطرے کو سمندر نظر آئے کیسے

قطرہ اور سمندر بظاہر دو الگ حقیقتیں ہیں، مگر وجود کی گہرائی میں یہ ایک ہی سچائی کے دو روپ ہیں۔ قطرہ اپنی محدودیت میں قید ہوتا ہے، جبکہ سمندر اپنی وسعت میں لا محدود دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک قطرہ سمندر کو دیکھے کیسے؟

یہ دراصل دیکھنے کا مسئلہ نہیں، سمجھنے کا مسئلہ ہے۔ قطرہ اگر اپنے اندر جھانک لے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ بھی اسی پانی کا حصہ ہے جس سے سمندر بنا ہے۔ اس کی ہستی الگ نہیں، بلکہ ایک بڑی ہستی کا جزو ہے۔ انسان بھی اسی قطرے کی مانند ہےمحدود جسم میں لامحدود روح کا حامل۔

جب شعور بیدار ہوتا ہے تو قطرہ اپنے اندر سمندر کو پہچان لیتا ہے۔ تب فاصلے مٹ جاتے ہیں، اور قطرہ سمندر کو باہر نہیں، اپنے اندر دیکھنے لگتا ہے۔


No comments:

Post a Comment