Sindh

Sindh

Sunday, 3 May 2026

آدمی آدمی کو کیوں کھا رہا ہے؟ ایک خاموش وبا کی تحقیق ۔۔۔ اکشر

 

آدمی آدمی کو کیوں کھا رہا ہے؟ ایک خاموش وبا کی تحقیق

انسان نے جب غار سے نکل کر شہر بسایا تھا تو اس کا خواب تحفظ تھا، اشتراک تھا، اور بقا کا اجتماعی تصور۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب نے لباس بدلا اور فطرت نے اپنا چہرہ چھپا لیا، مگر اپنی جبلّتیں نہیں بدلی۔

"آدمی آدمی کو کھائے جائے ہے" محض شاعری نہیں، یہ ایک سماجی تشخیص ہے۔

یہ کھانا صرف جسمانی نہیںیہ معاشی بھی ہے، نفسیاتی بھی اور ادارہ جاتی بھی۔

کوئی کسی کی مزدوری کھا رہا ہے
کوئی کسی کا حق
کوئی کسی کی عزت
اور کوئی کسی کا مستقبل

یہ بیماری اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دوسرے انسان کو “انسان” نہیں سمجھتا بلکہ “وسیلہ” سمجھ لیتا ہے۔

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جہاں خوف زیادہ ہو، عدم مساوات بڑھے، اور انصاف کمزور ہو جائے، وہاں انسان دوسرے انسان کے لیے درندہ بننے لگتا ہے۔ یہ وبا جنگلوں میں نہیں، دفاتر، عدالتوں، بازاروں اور گھروں میں جنم لیتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آدمی آدمی کو کیوں کھاتا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا کب چھوڑا؟


No comments:

Post a Comment