Sindh

Sindh

Sunday, 3 May 2026

ایسا ملا سمندر کہ کچھ اور پیاسا کر گیا ۔۔۔ اکشر

 

ایسا ملا سمندر کہ کچھ اور پیاسا کر گیا

سمندر ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک علامت رہا ہےوسعت کی، بےکراں گہرائی کی، اور ایسی حقیقت کی جس کے سامنے انسانی خواہشیں چھوٹی پڑ جاتی ہیں۔ میں بھی ایک دن اسی امید کے ساتھ اس کے کنارے پہنچا تھا کہ شاید اس کی وسعت میری اندرونی پیاس کو بجھا دے گی۔ مگر وہاں پہنچ کر جو تجربہ ہوا وہ توقع کے بالکل برعکس تھا۔

سمندر سامنے تھا، مگر وہ صرف پانی کا پھیلاؤ نہیں تھا۔ وہ ایک سوال بن کر کھڑا تھا۔ اس کی لہریں جیسے کسی ان دیکھی زبان میں مجھ سے بات کر رہی تھیں، مگر اس زبان کا کوئی ترجمہ ممکن نہ تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ جس چیز کو میں سکون سمجھ کر آیا تھا، وہ دراصل بےچینی کی ایک نئی شکل تھی۔

میں نے پانی کو چھوا تو لگا جیسے ہاتھ میں ٹھنڈک نہیں آئی بلکہ ایک اور خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ یہ عجیب بات تھی کہ جتنا میں اس کے قریب ہوتا گیا، اتنا ہی اپنے آپ سے دور ہوتا گیا۔ یوں لگا جیسے سمندر میری پیاس بجھانے نہیں آیا بلکہ میری پیاس کو شناخت دینے آیا ہو۔

میں نے سوچا، شاید سمندر باہر نہیں، اندر ہے۔ شاید یہ وسعت جو میں باہر دیکھ رہا ہوں، وہی میرے اندر کی نا مکمل خواہشوں کی تصویر ہے۔ انسان جس چیز کو باہر ڈھونڈتا ہے، وہ اکثر اس کے اندر ہی کسی شکل میں موجود ہوتی ہے، مگر غیر مکمل اور بےنام۔

سمندر نے مجھے خاموشی سکھائی۔ ایسی خاموشی جس میں سوال ختم نہیں ہوتے، بلکہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ وہاں ہر لہر یہ کہہ رہی تھی کہ حقیقت سکون نہیں، بلکہ مسلسل تلاش ہے۔ اور شاید انسان کی اصل حالت ہی پیاس ہےایسی پیاس جو کبھی مکمل طور پر بجھتی نہیں۔

واپسی پر میں پہلے سے زیادہ خالی نہیں تھا، بلکہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا تھاسوالات سے، بےیقینی سے، اور ایک ایسی سمجھ سے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔

میں نے جان لیا کہ سمندر پیاس نہیں بجھاتا، وہ پیاس کو بیدار کرتا ہے۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ وہ انسان کو اس کی اپنی گہرائی سے ملا دیتا ہے۔

No comments:

Post a Comment