Sindh

Sindh

Sunday, 3 May 2026

رقص میں ہے سارا جہاں ۔۔۔ اکشر

 


🌿 رقص میں ہے سارا جہاں  

رقص صرف جسم کی حرکت نہیں، یہ کائنات کی خاموش زبان ہے۔ ہر ذرّہ، ہر موج، ہر ستارہ اپنے اپنے انداز میں ناچ رہا ہے۔ کبھی یہ حرکت کہکشاؤں کی گردش میں دکھائی دیتی ہے، کبھی سمندر کی لہروں میں، کبھی ہوا کے بے نام جھونکوں میں، اور کبھی انسان کے دل کی دھڑکن میں۔

انسان جب رقص کرتا ہے تو وہ دراصل کائنات کے اُس بنیادی اصول کو چھو لیتا ہے جس میں ہر شے حرکت میں ہے۔ رقص ایک ایسا شعور ہے جو لفظوں سے آزاد ہو کر وجود کی گہرائی میں اتر جاتا ہے۔ یہ خوشی کا اظہار بھی ہے، درد کی زبان بھی، اور عبادت کی ایک خاموش صورت بھی۔

اگر غور کیا جائے تو کائنات خود ایک مسلسل رقص ہےکبھی پھیلتی ہوئی سانس کی طرح، کبھی سکڑتی ہوئی یاد کی طرح، کبھی کسی گم شدہ دُھن کی مانند۔ انسان جب اس رقص میں شامل ہو جاتا ہے تو وہ اپنی انفرادیت کھو کر کُل کا حصہ بن جاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment