Sindh

Sindh

Friday, 17 April 2026

سائنس نے روشنی کو ناپ لیا اور تاروں کی گنتی کر ڈالی ... اکشر

 



طویل فلسفیانہ نظم

سائنس نے روشنی کو ناپ لیا
اور تاروں کی گنتی کر ڈالی

فلک کی گردش کے راز کھولے
زمین کی نبض بھی پہچان لی

بتا دیا کیسے چلتی ہے ہوا
کیسے بادل بنتے ہیں

کیسے بیج زمین میں ٹوٹ کر
اک سبز خواب میں ڈھلتے ہیں

کیسے دریا پہاڑوں سے نکلتے
کیسے سمندر تک پہنچتے ہیں

کیسے جسم کے اندر خلیے
زندگی کی مشین چلاتے ہیں

مگر جب سوال ہوا اچانک
کہ کائنات کیوں بنی؟

یہ خاموشی کیوں اتری دل میں
یہ حیرت کیوں ہے آدمی؟

سائنس نے نظریں جھکا لیں
اور سوچ میں گم ہو گئی

کیونکہ کچھ سوال ایسے بھی ہیں
جو تجربہ گاہوں سے نہیں ملتے

وہ دل کی خاموش گہرائی میں
فکر کے چراغ جلاتے ہیں

کیونکہ جان لینا کافی نہیں
سمجھ لینا بھی ضروری ہے

اور سمجھ لینا بھی کافی نہیں
معنی تلاش کرنا بھی ضروری ہے

اسی تلاش میں انسان
کبھی سائنس دان بنتا ہے

کبھی شاعر
اور کبھی صوفی۔


No comments:

Post a Comment