غزل
خود غرض مطلبی ہیں سارے،
بھلے انساں کہاں ہیں پیارے۔
شہر بھر میں ہجوم ہے لیکن
دل کے رستے ہوئے ہیں خالی سارے۔
دوستی بھی یہاں تجارت ہے،
نفع کے ہیں اصول بس ہمارے۔
چہرے روشن ہیں محفلوں میں مگر
دل کے کمرے ہیں تاریک سارے۔
میں نے ڈھونڈا وفا کو لوگوں میں،
مل گئے مفاد کے ستارے۔
پھر کہیں ایک سادہ سا دل تھا
جس کے انداز تھے تمہارے۔
شاید ایسے ہی چند لوگوں سے
زندہ رہتے ہیں خواب پیارے۔
No comments:
Post a Comment