دھند اور اسموگ
یہ صبح کی خاموش سانس
ہے
یا شہروں کی تھکی ہوئی
آہ
کہ فضا میں کوئی پردہ
سا ہے
جو منظر کو مدھم کر
دیتا ہے
دھند آتی ہے نرم قدموں
سے
جیسے شبنم کا قافلہ اتر
آیا ہو
وہ پہاڑوں کو گود میں
لے لیتی ہے
اور دریاؤں کو خواب بنا
دیتی ہے
اس کا رنگ دودھ جیسا
سفید
جیسے بادل زمین کو چھو
گئے ہوں
مگر کہیں اور ایک اور
کہانی ہے
جہاں آسمان کا رنگ
بیمار ہے
وہ دھند نہیں
وہ اسموگ ہے
دھوئیں کا بوجھ
مشینوں کی تھکن
اور شہروں کی بے صبری
وہ زرد ہے
بھوری ہے
اور اداس ہے
وہ فضا میں سوال بن کر
رہتی ہے
کہ ترقی کی قیمت کیا ہے
دھند قدرت کی چادر ہے
جو صبح کے ماتھے پر
رکھی جاتی ہے
اور اسموگ انسان کی
غلطی
جو آسمان پر لکھ دی گئی
ہے
فرق صرف رنگ کا نہیں
فرق نیت کا بھی ہے
ایک فطرت کی خاموش نظم
اور ایک انسان کی بے
ترتیبی
دیکھو
جب اگلی صبح اٹھو
اور فضا کو غور سے
دیکھو
اگر وہ سفید ہے
تو قدرت مسکرا رہی ہے
تو زمین ہمیں آئینہ دکھا رہی ہے
No comments:
Post a Comment