"خمار
کا سفر"
ایک مدت تک
میں اڑتا رہا اس فضا
میں
جہاں میری سانسوں کو
ایک خمار تھا
ایک وہم کا نشہ۔۔۔
کہ یہ کائنات میرے ہی
گرد گھومتی ہے
کہ جو ہاتھ میری گرفت
میں ہے، وہ کبھی نہیں چھوٹے گا
کہ جو دیواریں میں نے
کھڑی کی ہیں، انہیں کوئی نہیں گرا پائے گا
میں اندیشوں کے زہر کو
امرت سمجھ کر پیتا رہا
اور محبت کے جھوٹے
دلاسوں کو ابدی سچ مانتا رہا۔
اور پھر،
مجھے ایک اور نشہ چڑھا
خود کو "اہم"
سمجھنے کا نشہ!
میں نے سوچا، میرے بغیر
یہ بزم اداس رہے گی
میرے بغیر وہ جی نہیں
پائے گا
میری رائے کے بغیر کوئی
فیصلہ نہیں ہوگا
میں نے اپنے سر پر
اہمیت کا ایک فرضی تاج سجا لیا۔
مگر وقت۔۔۔
وہ جو خاموشی سے چلتا
رہتا ہے،
نہ کسی کی سنتا ہے، نہ
کسی کے لیے رکتا ہے،
اس نے آہستہ سے میرے سر
سے وہ تاج اتارا
اور میری آنکھوں پر
بندھی وہم کی پٹی کھول دی۔
میں نے دیکھا،
میرے بغیر بھی صبح
ہوئی، اور سورج اپنے وقت پر نکلا
بزم چمکتی رہی، اور
قہقہے گونجتے رہے
وہ شخص جس کے لیے میں
سانسوں کی طرح تھا،
کسی اور کے ساتھ مسکرا
رہا تھا
اور وہ دیواریں، جن پر
مجھے ناز تھا، ریت کی طرح بکھر چکی تھیں۔
اب میں کھڑا ہوں،
بالکل اکیلا، بالکل صاف
دماغ کے ساتھ
وقت نے میرا ہر خمار
اتار دیا ہے
نہ اب کوئی وہم باقی
ہے،
نہ اب کوئی وہم کے
پیچھے بھاگنے کی چاہ،
نہ اپنی اہمیت کا کوئی
خبط، نہ کسی اور کو اہم بنانے کی ضد۔
وقت نے مجھے سکھا دیا
ہے،
کہ نشہ چاہے گمان کا ہو
یا مان کا،
ایک نہ ایک دن اتر ہی
جاتا ہے!

No comments:
Post a Comment