Sindh

Sindh

Monday, 17 August 2026

"میں نے وقت کو رکتے دیکھا" ـ اکشر

 

 "میں نے وقت کو رکتے دیکھا"

شہر کی رفتار تیز تھی،
اتنی تیز کہ چہرے دھندلا رہے تھے،
گاڑیوں کا شور، قدموں کی چاپ، اور ایک ہجوم
جس میں ہر کوئی ایک دوسرے سے بے خبر،
اپنے اپنے حصار میں گم، بھاگ رہا تھا۔

پھر اچانک
ایک تیز ہوا کا جھونکا چلا،
اور درخت کی اونچی شاخ سے ایک سرخ پتا ٹوٹا۔
وہ پتا، جس پر خزاں کے دستخط تھے،
ہوا کے دوش پر لہراتا ہوا
سیدھا میرے قدموں میں آ گرا۔

اسی ایک سیکنڈ میں،
شہر کا سارا شور یکسر خاموش ہو گیا۔
گاڑیاں رک گئیں، ہجوم غائب ہو گیا،
اور سڑک کا وہ بے جان ٹکڑا ایک کینوس بن گیا۔

میں نے اس پتے کی رگوں میں
پورے موسمِ سرما کی تنہائی کو دیکھا،
میں نے اس کی سرخی میں
گرتے ہوئے سورج کی آخری چمک دیکھی۔

لوگ گزرتے رہے،
جیکٹوں اور کوٹوں کا ایک سمندر تھا جو بہتا رہا،
کسی نے نیچے نہیں دیکھا،
کسی کی نظر اس گرتے ہوئے وجود پر نہیں پڑی۔

مگر میں نے جیب سے قلم نکالا،
اور وقت کے اس بہاؤ کو وہیں روک دیا۔
وہ لمحہ جو ایک سیکنڈ بعد مٹی کا حصہ بننے والا تھا،
اب میری لکیروں میں سانس لے رہا تھا۔
دنیا آگے بڑھ گئی،
مگر میں اس خواب سے باہر نکل آیا،
وہ لمحہ، جو اب ایک نظم بن چکا تھا۔

No comments:

Post a Comment