دکھ
اور انتقام کو جدوجہد اور نظامی تبدیلی میں بدلنا
دکھ
اور تکلیف انسانی زندگی کے ایسے تلخ حقائق ہیں جن سے کسی کو مفر نہیں۔ جب کوئی فرد
یا طبقہ کسی کرپٹ، ظالمانہ اور غیر منصفانہ نظام کے ہاتھوں کچلا جاتا ہے، تو
انسانی جبلت کا پہلا ردِعمل 'انتقام' کی شکل میں ابھرتا ہے۔ یہ غصہ اور بدلہ لینے
کی خواہش فطری تو ہو سکتی ہے، مگر یہ ایک ایسا جذباتی سراب ہے جو فرد کو اسی دائرے
میں قید کر دیتا ہے۔ ذاتی انتقام ہمیشہ کسی ایک شخص یا علامت کو نشانہ بناتا ہے،
جس سے وقتی تسکین تو مل سکتی ہے، مگر ظلم کی وہ مشینری جوں کی توں قائم رہتی ہے جو
اس تکلیف کی اصل وجہ تھی۔
حقیقی
شعور اور انقلاب کا آغاز تب ہوتا ہے جب انسان اپنے ذاتی دکھ اور انتقام کی اس تپش
کو ضائع کرنے کے بجائے اسے ایک تعمیری ایندھن میں بدل دیتا ہے۔ یہ عمل 'شخصی درد'
کو 'اجتماعی جدوجہد' کا روپ دیتا ہے۔ جب آپ کا نشانہ ظالم فرد کے بجائے وہ پورا
ڈھانچہ اور نظام بن جاتا ہے جو ظلم پیدا کر رہا ہے، تو انتقام ایک مقدس لڑائی یعنی
نظام کی تبدیلی (Systemic Change)
میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے
کہ وہی تحریکیں کامیاب ہوئیں جنہوں نے مظلوموں کے آنسوؤں اور غصے کو منظم کر کے
قوانین، اداروں اور نظام کی کایا پلٹنے کے لیے استعمال کیا۔
No comments:
Post a Comment