غزل
گردن سے اوپر بھی ذرا سوچ کو رزق
دیجیے
دل کے چراغ کے لیے کچھ نور بھی لیجیے
پیٹوں کی سلطنت میں ہیں بازار بے شمار
ذہنوں کی بستیوں میں بھی اک گھر
خریدیے
روٹی تو روز مل ہی گئی، علم کیا ملا؟
اس کا بھی اپنے آپ سے اک دن حساب
لیجیے
کتبوں کی خوشبوؤں سے مہکنے لگے شعور
لفظوں کے باغ میں کبھی آ کر تو جیجیے
نفرت کی دھول ذہن پہ جمنے نہ دیجیے
سچ کی ہوا چلے تو دریچے کھولیے
سوال زندہ رہیں تو زمانہ بھی جاگتا
ہر اک جواب پر نہ یقیں باندھ لیجیے
جسموں کی پرورش سے سفر ختم کب ہوا؟
روح و خرد کو ساتھ لیے آگے بڑھیے
اکشَرؔ یہی پیام ہے اہلِ نظر کے نام
پیٹوں سے پہلے ذہن کو بھی روٹی دیجیے۔
No comments:
Post a Comment