اکشر میرے وجود کے...
سفید کاغذ کی اس وسعت پر
جب میرا قلم چلتا ہے
تو سیاہی سے کچھ نقش ابھرتے ہیں
لوگ انہیں صرف حروف کہتے ہیں
مگر میرے لیے... یہ "اکشر" ہیں
میرے وجود کے، میری روح کے ٹکڑے!
ان اکشروں میں تمہارا نام چھپا ہے
جسے میں نے دنیا کی نظروں سے بچا کر
اپنے دل کی گہرائی میں لکھا ہے
ایک اکشر محبت کا ہے، جو کبھی مٹ نہیں سکتا
ایک اکشر اداسی کا ہے، جو شام کے سائے میں گہرا ہو جاتا ہے
اور ایک اکشر اس امید کا ہے
کہ تم ایک دن لوٹ آؤ گے
میں نے سیکھا ہے کہ انسان فانی ہے
یہ جسم مٹی میں مل جائے گا
مگر جو محبت میں نے ان لکیروں میں قید کر دی ہے
جو درد میں نے ان لفظوں کو بخشا ہے
وہ ہمیشہ زندہ رہے گا
جب میں نہیں ہوں گا، تب بھی یہ اکشر بولیں گے
اور دنیا کو ہماری ادھوری کہانی سنائیں گے
کیونکہ اکشر کبھی مرتے نہیں ہے!
No comments:
Post a Comment