انگ سنگ ہو تم میرے
سنو!
یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ تم دور ہو
وہ سراسر غلط کہتے ہیں
انہیں کیا معلوم کہ تم تو میرے وجود کا حصہ ہو
میری ہر دھڑکن، میری ہر سانس میں تمہارا ہی نام ہے
تم دور ہو کر بھی میرے انگ سنگ ہو
جب صبح کی پہلی کرن میری
آنکھوں کو چھوتی ہے
تو مجھے تمہاری مسکراہٹ یاد آتی ہے
جب شام کا سرمئی اندھیرا پھیلتا ہے
اور تنہائی مجھے گھیرنے لگتی ہے
تو میں اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہوں
اور تمہیں اپنے بالکل قریب پاتا ہوں
جیسے تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو
جیسے تمہاری سانسیں میری سانسوں کو چھو رہی ہوں
میرا کوئی لمحہ، میری کوئی
سوچ
تمہارے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی
میں دنیا کی بھیڑ میں ہوں یا تنہائی کے حجرے میں
تمہارا احساس ایک چادر کی طرح مجھے اوڑھے رکھتا ہے
یہ کیسا جادو ہے، یہ کیسی محبت ہے؟
کہ اب میں خود کو خود میں نہیں ڈھونڈتا
میں جب بھی خود کو دیکھتا ہوں
تم مجھے اپنے انگ سنگ نظر آتے ہو
اور یہی میرے جینے کا سب سے بڑا سہارا ہے
No comments:
Post a Comment