سیلولائیڈ
مزدور ۔۔۔ اکشر
سیلولائیڈ مزدور محض
فلمی صنعت کا ایک کارکن نہیں بلکہ روشنی، وقت اور یادداشت کا محافظ ہوتا ہے۔
وہ اُن لوگوں میں شامل
ہے جنہوں نے خوابوں کو پردۂ سیمیں تک پہنچانے کے لیے اپنی آنکھوں کی روشنی، ہاتھوں
کی مہارت اور زندگی کے کئی موسم قربان کیے۔ جب دنیا ڈیجیٹل رفتار کی طرف بڑھ رہی
تھی، تب بھی وہ فلم کی باریک پٹیوں میں زندگی تلاش کرتا رہا۔
ایک زمانہ تھا جب فلم
صرف کہانی نہیں ہوتی تھی، ایک جسم رکھتی تھی۔ اس کی خوشبو ہوتی تھی، اس کا وزن
ہوتا تھا، اس کے جلنے کا خوف ہوتا تھا۔ پروجیکٹر کی گھومتی آواز میں ایک عجیب جادو
تھا۔ سینما ہال کے اندھیرے میں بیٹھے لوگ شاید اداکاروں کے چہرے دیکھتے تھے، مگر
ان چہروں کے پیچھے ایک خاموش مزدور کی محنت چھپی ہوتی تھی۔
یہ مزدور فلم کی ریلیں
اٹھاتا، انہیں جوڑتا، کٹ لگاتا، فریم گنتا، اور ایک لمحے کو دوسرے لمحے سے اس طرح
باندھتا جیسے کوئی شاعر مصرعے ترتیب دیتا ہے۔
اس کی انگلیوں پر
کیمیکل کے نشان ہوتے، آنکھوں میں راتوں کی تھکن، مگر دل میں یہ یقین کہ کہانیاں
انسان کو زندہ رکھتی ہیں۔
پھر وقت بدلا۔
ڈیجیٹل اسکرینوں نے
سیلولائیڈ کو آہستہ آہستہ بے دخل کرنا شروع کیا۔ مشینیں تیز ہوگئیں، مگر لمس ختم
ہوگیا۔ ایڈیٹنگ سافٹ ویئر نے وہ کام سنبھال لیا جس کے لیے کبھی برسوں کی تربیت
درکار ہوتی تھی۔ سینما کی روح تو باقی رہی، مگر اس کے ہاتھ بدل گئے۔
آج بھی جب کوئی پرانی
فلم اسکرین پر جھلملاتی ہے، جب تصویر میں ہلکی سی گرین دکھائی دیتی ہے، جب روشنی
ذرا کانپتی محسوس ہوتی ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے کہیں نہ کہیں کوئی سیلولائیڈ مزدور
اب بھی اپنی خاموش ڈیوٹی انجام دے رہا ہو۔
وہ مزدور ہمیں یاد
دلاتا ہے کہ فن صرف ٹیکنالوجی نہیں ہوتا؛
فن میں انسان کی سانس
بھی شامل ہوتی ہے۔
No comments:
Post a Comment