زندگی ہر لمحہ پھسل رہی ہے ۔۔۔ اکشر
زندگی کبھی ایک دم ختم نہیں ہوتی۔
یہ آہستہ آہستہ، لمحہ لمحہ، سانس سانس
ہم سے دور ہوتی رہتی ہے۔ انسان اکثر سمجھتا ہے کہ زندگی صرف موت کے دن ختم ہوتی
ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی روز تھوڑی تھوڑی کم ہوتی رہتی ہے۔ ایک گزرا ہوا دن،
ایک ادھورا خواب، ایک نہ کہا گیا جملہ، ایک مؤخر محبت — یہ سب زندگی کے ہاتھ سے
پھسل جانے کی شکلیں ہیں۔
انسان وقت کو ہمیشہ اپنا غلام سمجھتا
رہا ہے، حالانکہ وقت کسی کا غلام نہیں۔ وہ بغیر رکے، بغیر پلٹے، اپنی رفتار سے
چلتا رہتا ہے۔ ہم کل کی منصوبہ بندی میں آج کو کھو دیتے ہیں۔ ہم خوشی کو کامیابی
کے بعد کے لیے بچا رکھتے ہیں۔ محبت کو مناسب وقت تک ملتوی کرتے رہتے ہیں، مگر
زندگی کسی انتظار کی پابند نہیں۔
بچپن خاموشی سے تصویروں میں بدل جاتا
ہے۔ جوانی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے اپنی شوخی کھو دیتی ہے۔ والدین آہستہ آہستہ
بوڑھے ہو جاتے ہیں، اور ہمیں احساس بھی دیر سے ہوتا ہے۔ دوستیاں فاصلے بن جاتی
ہیں، اور خواب وقت کی دھول میں کہیں دب جاتے ہیں۔
آج کے دور میں زندگی کا پھسلنا اور
بھی تیز ہو گیا ہے۔ لوگ موبائل کی اسکرینوں میں گم ہیں، مگر اپنے ہی گھر کے چہروں
سے دور۔ ہزاروں تصویریں محفوظ کی جا رہی ہیں، مگر لمحے جینے کی فرصت کم ہوتی جا
رہی ہے۔ انسان چیزیں جمع کر رہا ہے، مگر سکون کھو رہا ہے۔ شہرت پا رہا ہے، مگر
تعلقات ہار رہا ہے۔
لیکن زندگی کے فانی ہونے کا احساس صرف
غم نہیں دیتا، یہ شعور بھی دیتا ہے۔ یہی احساس انسان کو سکھاتا ہے کہ لمحوں کی قدر
کرو، محبت کو مؤخر نہ کرو، اور اپنے لوگوں کے ساتھ وقت گزارو۔ کیونکہ ایک دن یہی
عام دن، یہی معمولی شامیں، یہی مختصر ملاقاتیں سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گی۔
زندگی کی اصل خوبصورتی اس کے ختم ہونے
میں ہے۔ اگر وقت ہمیشہ باقی رہتا تو شاید کسی لمحے کی اہمیت نہ ہوتی۔ فنا ہی زندگی
کو معنی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان ایک مسکراہٹ، ایک معافی، ایک ملاقات، ایک
بارش، ایک شام — سب کو دل میں محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
زندگی ہر لمحہ پھسل رہی ہے،
اور شاید جینے کا اصل ہنر یہی ہے کہ
ہم اس پھسلتے ہوئے وقت میں محبت، شعور اور انسانیت کو تھامے رکھ سکیں۔
No comments:
Post a Comment