Sindh

Sindh

Thursday, 14 May 2026

ہوائیں، لہریں، لفظ ۔۔۔۔ اکشر

 

ہوائیں، لہریں، لفظ

دنیا کی سب سے طاقتور چیزیں ہمیشہ نظر نہیں آتیں۔
ہوا دکھائی نہیں دیتی مگر درختوں کو جھکا دیتی ہے۔
لہر ہاتھ میں نہیں آتی مگر ساحل بدل دیتی ہے۔
لفظ پکڑے نہیں جا سکتے مگر انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔

ہوا فطرت کا آزاد مسافر ہے۔
وہ پہاڑوں، صحراؤں، دریاؤں اور شہروں سے گزرتی ہوئی کبھی کسی ایک جگہ کی نہیں رہتی۔
ہوا میں عجیب سی سچائی ہوتی ہے۔
وہ جب نرم ہوتی ہے تو دلوں کو سکون دیتی ہے، اور جب طوفان بنتی ہے تو اپنے غضب کو چھپاتی نہیں۔
انسان اگر ہوا سے کچھ سیکھ سکتا ہے تو وہ حرکت ہے، کیونکہ رکی ہوئی چیزیں سڑ جاتی ہیں۔

لہریں پانی کی بے چینی ہیں۔
سمندر بظاہر خاموش دکھائی دیتا ہے مگر اس کے اندر مسلسل شور برپا رہتا ہے۔
ہر لہر ساحل سے ٹکرا کر ٹوٹ جاتی ہے، لیکن سمندر مایوس نہیں ہوتا۔
فوراً ایک نئی لہر جنم لے لیتی ہے۔
یہی زندگی ہے۔
گرنا، بکھرنا، اور پھر دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا۔

اور پھر لفظ ہیں۔
لفظ انسان کی سب سے بڑی نعمت بھی ہیں اور سب سے خطرناک ہتھیار بھی۔
ایک لفظ محبت پیدا کر سکتا ہے، اور ایک لفظ نفرت کی آگ لگا سکتا ہے۔
کبھی ایک جملہ کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو زندہ کر دیتا ہے، اور کبھی ایک جملہ پوری عمر کا زخم بن جاتا ہے۔

آج کا زمانہ لفظوں کے شور کا زمانہ ہے۔
سوشل میڈیا نے ہر انسان کو بولنے کا حق تو دیا، مگر سننے کی صلاحیت کم کر دی۔
جھوٹ ہوا کی طرح پھیلتا ہے، افواہیں لہروں کی طرح ٹکراتی ہیں، اور سچ کہیں خاموش بیٹھا رہ جاتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود سچے لفظ آج بھی روشنی رکھتے ہیں۔
آج بھی ایک سچا جملہ کسی اندھیرے دل میں چراغ جلا سکتا ہے۔

ہوائیں زمین کا نقشہ بدلتی ہیں۔
لہریں ساحل بدلتی ہیں۔
اور لفظ انسان بدل دیتے ہیں۔

زندگی شاید انہی تین چیزوں کا مجموعہ ہے:
ہوا کی آزادی،
لہروں کی جدوجہد،
اور لفظوں کا معنی۔

جب تک ہوا چلتی رہے گی، سمندر بولتا رہے گا، اور انسان لفظ لکھتا رہے گا، تب تک دنیا مکمل خاموش نہیں ہو سکے گی۔

No comments:

Post a Comment