Sindh

Sindh

Thursday, 14 May 2026

کائنات خدا ہے، ایٹم ایک رازِ الوہیت ۔۔۔ اکشر

 

کائنات خدا ہے، ایٹم ایک رازِ الوہیت

کبھی انسان نے آسمان کو دیکھا تو اسے تختِ خدا سمجھا، اور کبھی زمین کو دیکھا تو اسے امتحان گاہِ حیات جانا۔ وقت گزرتا گیا، علم نے ترقی کی، دوربینیں بنیں، خوردبینیں وجود میں آئیں، اور انسان نے جان لیا کہ جسے وہ خلا سمجھتا تھا وہاں کہکشائیں ہیں، اور جسے وہ ٹھوس مادہ سمجھتا تھا وہاں ایٹم کے اندر ایک پوری کائنات سانس لیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں فلسفہ، سائنس اور روحانیت ایک ہی دریا میں آ کر مل جاتے ہیں۔ “کائنات خدا ہے، ایٹم الٰہی ہے” کوئی سادہ دعویٰ نہیں بلکہ ایک طرزِ احساس ہے۔ یہ کہنا کہ ہر شے میں ایک پوشیدہ نور رواں ہے، جو ہر ذرّے کو حرکت دیتا ہے، ہر وجود کو معنی عطا کرتا ہے۔

ایٹم، جو کبھی ناقابلِ تقسیم سمجھا جاتا تھا، آج انسان کو یہ بتا رہا ہے کہ حقیقت جتنی چھوٹی ہوتی جاتی ہے، اتنی ہی وسیع ہو جاتی ہے۔ الیکٹران، پروٹان، اور توانائی کی لہریں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ مادہ جامد نہیں بلکہ ایک مسلسل رقص ہے۔ گویا کائنات ٹھہری ہوئی تصویر نہیں بلکہ ایک چلتی ہوئی دعا ہے۔

صوفیاء نے صدیوں پہلے کہا تھا کہ وجود ایک ہی حقیقت کا پھیلاؤ ہے۔ ہر پتہ، ہر پتھر، ہر انسان اسی ایک حقیقت کی مختلف صورت ہے۔ سائنس آج اسی حقیقت کو مختلف زبان میں دہرا رہی ہے۔ فرق صرف الفاظ کا ہے، معنی ایک ہی ہے: سب کچھ ایک ہے۔

اگر ستارے مرتے ہیں تو عناصر پیدا ہوتے ہیں، اگر عناصر بنتے ہیں تو زندگی جنم لیتی ہے۔ انسان کے جسم میں موجود لوہا بھی کسی ستارے کی موت کا تحفہ ہے۔ یوں انسان کائنات سے الگ نہیں بلکہ کائنات ہی کی ایک شکل ہے جو خود کو دیکھنے لگی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایٹم صرف ایک ذرہ نہیں بلکہ ایک راز ہے—ایسا راز جس کے اندر کائنات چھپی ہوئی ہے۔ اور کائنات صرف خلا نہیں بلکہ ایک زندہ شعور ہے جو ہر شے میں ظاہر ہو رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment