Sindh

Sindh

Sunday, 12 July 2026

خزانہ پوشیدہ .... اکشر



خزانہ پوشیدہ

تم جسے کچرا کہہ کر گلی کے کونے میں پھینک دیتے ہو،
اور ناک بھوں چڑھا کر آگے بڑھ جاتے ہو،
کبھی غور سے دیکھو!
اس میں صرف تعفن اور گندگی نہیں،
اس میں زندگی کی نئی لہریں چھپی ہیں۔

وہ پلاسٹک کی بوتل جو صدیوں تک نہیں گلتی،
کسی کارخانے کی پگھلتی ہوئی بھٹی میں جا کر
ایک نیا روپ دھار سکتی ہے۔
وہ کمپیوٹر کا پرانا بورڈ جو اب بیکار ہے،
اپنے اندر قیمتی دھاتوں کا ایک شہر آباد کیے ہوئے ہے۔

یہ کوڑا کرکٹ کوئی بوجھ نہیں،
یہ ہماری غفلت کی داستان ہے۔
اگر ہم سیکھ لیں اسے دوبارہ تراشنا،
تو ہر ردی کاغذ کا ٹکڑا ایک کرنسی نوٹ بن سکتا ہے،
اور کچرے کا ہر ڈھیر،

ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا مینار! 

No comments:

Post a Comment