"حادثۂ وقت"
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
کسی بھی معاشرے کی بقا، ترقی اور خوشحالی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں عدل و انصاف کا نظام کیسا ہے اور کیا اہم منصب اور ذمہ داریاں اہل لوگوں کے سپرد ہیں یا نہیں۔ جب معاشرے میں علم، ہنر اور قابلیت کی جگہ جہالت، خوشامد اور نااہلی کو نوازا جانے لگے، تو وہیں سے اس قوم کے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ محسن بھوپالی نے اپنے لازوال شعر میں اسی سماجی المیے کو "حادثۂ وقت" قرار دیا ہے۔
میرٹ کی پامالی اور
معاشرتی حادثہ
جب
علم و دانش کے مراکز، اہم سرکاری و سماجی عہدے اور فیصلے کرنے کے اختیارات کسی
ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دیے جائیں جو ان کا اہل نہ ہو، تو یہ پورے نظام کی موت
ہوتی ہے۔ جاہل کو انعام دینا دراصل علم کی توہین اور اہل لوگوں کی حوصلہ شکنی ہے۔
جب ایک پڑھا لکھا، باصلاحیت اور دیانت دار انسان یہ دیکھتا ہے کہ
معاشرے میں عزت، دولت اور عہدے صرف چمچہ گیری، اثر و رسوخ یا جہالت کی بنیاد پر مل رہے ہیں، تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
"کم ظرف کے ہاتھ
میں جام"
شاعر نے اس صورتحال کو ایک خوبصورت استعارے سے واضح کیا ہے کہ اگر شراب خانے (میخانے) کی باگ ڈور یا جام کسی ایسے شخص کو دے دیا جائے جو ظرف سے عاری ہو، تو یہ پورے میخانے اور وہاں بیٹھنے والے معزز رندوں کی ہتک ہے۔ بالکل اسی طرح، جب معاشرے کے اہم فیصلے کم ظرف اور نادان لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جاتے ہیں، تو وہ پورے سماجی ڈھانچے کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس نہ تو کوئی وژن ہوتا ہے اور نہ ہی اخلاقی اقدار۔
مصلحت پسندی کا نقصان
موجودہ دور میں اس المیے کی سب سے بڑی وجہ "مصلحت پسندی" ہے۔ لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں اور وقت کے ظالم یا جاہل حکمران کی ہاں میں ہاں ملانا فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ ادبی چوری (سرقہ) کو الہام کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جب تک معاشرہ مصلحت پسندی کی چادر اوڑھ کر خاموش رہے گا، تب تک نااہل لوگ ہی انعام و اکرام پاتے رہیں گے۔
حاصلِ کلام
"جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے" محض ایک مصرع نہیں، بلکہ ایک جاگتے ہوئے ضمیر کی پکار ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر ہم اپنے ملک اور معاشرے کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں میرٹ کی پاسداری کرنی ہوگی۔ علم کو اس کا اصل مقام دینا ہوگا اور نااہلوں کو ان کی صحیح جگہ دکھانی ہوگی۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے سچائی اور قابلیت کو پسِ پشت ڈالا، وہ ہمیشہ کے لیے مٹ گئی۔
No comments:
Post a Comment