Sindh

Sindh

Monday, 6 July 2026

"کتے کو ہڈی ملی، دہاڑنے لگا" .... اکشر



"کتے کو ہڈی ملی، دہاڑنے لگا" (طنز و مزاح)

دنیا کا اصول ہے کہ جب کسی کم ظرف کو اس کی اوقات سے زیادہ مل جائے، تو وہ اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ یہی حال ہمارے معاشرے کے اس کتے کا ہے جسے کہیں سے ایک سوکھی ہڈی کیا مل گئی، وہ خود کو جنگل کا بادشاہ سمجھ کر شیر کی طرح دہاڑنے لگا ہے۔

کتے کا کام بھونکنا ہے، دہاڑنا شیر کا خاصہ ہے۔ لیکن جب توازنِ فطرت بگڑ جائے اور سستی شہرت یا اچانک دولت کسی نااہل کے ہاتھ لگ جائے، تو بھونکنے والے بھی دہاڑنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہڈی جو محض چند لمحوں کی بھوک مٹانے کا سامان تھی، اس کتے کے لیے غرور اور تکبر کا باعث بن گئی۔ وہ بھول گیا کہ ہڈی چبانے سے دانت ٹوٹ بھی سکتے ہیں اور یہ کہ ہڈی پر گوشت کا ایک لوتھڑا بھی موجود نہیں۔

یہ کہانی صرف ایک جانور کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ان لوگوں کی عکاس ہے جو معمولی عہدہ، پیسہ یا طاقت پا کر اپنے محسنوں اور اپنوں پر ہی غُرّانے لگتے ہیں۔ ہڈی ملنے پر دہاڑنے والے یاد رکھیں کہ ہڈی ختم ہوتے ہی شیر کا مکھوٹا اتر جاتا ہے اور کتے کی اصل حقیقت دوبارہ سامنے آ جاتی ہے۔ 

No comments:

Post a Comment