Sindh

Sindh

Thursday, 7 May 2026

خامشی بھی تمہیں اک دن یہ خبر دے گی ۔۔۔۔۔ اکشر

غزل

اپنے لہجے میں ذرا پیار بسا کر دیکھو
زندگی بدلے گی خود کو بھی بدل کر دیکھو

خود سے نفرت کی فضا دل کو جلا دیتی ہے
اپنے اندر کوئی امید جگا کر دیکھو

جو اندھیروں میں بھی رستہ نہیں کھونے دیتے
ایسے لفظوں کو دل و جاں میں سجا کر دیکھو

تم ہی زخموں کے مسیحا بھی ہو اپنے آخر
اپنے ہاتھوں سے خود اپنا دل اٹھا کر دیکھو

وقت بدلے گا، یہ حالات بدل جائیں گے
خود سے باتوں کا فقط ڈھنگ بدل کر دیکھو

 خامشی بھی تمہیں اک دن یہ خبر دے گی اکشر
اپنے اندر کوئی چراغ جلا کر دیکھو


No comments:

Post a Comment