کوئی بھی کسی کا نہیں نہیں ہوتا
آج
کے دور میں انسان خود کو “خود ساختہ” کہلوانا پسند کرتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان
کی کامیابی صرف ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر کامیابی کے
پیچھے بے شمار گمنام ہاتھ ہوتے ہیں۔ ایک ماں کی جاگتی ہوئی راتیں، ایک باپ کی
خاموش محنت، استاد کی رہنمائی، مزدور کے پسینے سے بنی ہوئی سڑکیں، کسان کی اگائی
ہوئی روٹی — یہ سب کسی ایک انسان کی تعمیر میں شامل ہوتے ہیں۔
انسان
صرف اپنا وجود نہیں، اپنے پورے ماضی کا نمائندہ ہوتا ہے۔
جو
بچہ یتیم ہو جائے، وہ بھی انسانیت کی اولاد رہتا ہے۔ جس شخص کا خاندان بکھر جائے،
وہ بھی تہذیب، زبان اور تاریخ کے رشتوں سے جڑا رہتا ہے۔ انسان اکیلا نظر آ سکتا
ہے، مگر حقیقت میں وہ کروڑوں سانسوں کے تسلسل کا حصہ ہوتا ہے۔
معاشرہ
اُس وقت بے رحم بن جاتا ہے جب وہ انسانوں کو صرف اعداد و شمار سمجھنے لگتا ہے۔
جنگیں اسی وقت آسان ہوتی ہیں جب دشمن کو “انسان” کے بجائے “ہجوم” کہا جائے۔ ظلم
اسی وقت بڑھتا ہے جب چہروں کے پیچھے موجود کہانیاں بھلا دی جائیں۔
اسی
لیے ہر انسان احترام کے قابل ہے۔
کوئی
فقیر ہو یا بادشاہ، مزدور ہو یا عالم، عورت ہو یا مرد — ہر ایک اپنے ساتھ ایک پورا
جہان لے کر چلتا ہے۔ ہر انسان کے پیچھے دعاؤں کی ایک تاریخ ہوتی ہے۔
انسانیت
کا حسن اسی احساس میں ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
No comments:
Post a Comment