Sindh

Sindh

Friday, 15 May 2026

کوئی بھی کسی کا نہیں نہیں ہوتا ۔۔۔۔ اکشر

 


کوئی بھی کسی کا نہیں نہیں ہوتا 


دنیا میں آنے والا ہر انسان کسی نہ کسی کہانی کا تسلسل ہوتا ہے۔
کوئی شخص خلا سے پیدا نہیں ہوتا، کوئی روح بغیر ماضی کے وجود میں نہیں آتی۔ ہر چہرے کے پیچھے نسلوں کی تھکن، دعائیں، قربانیاں اور خواب موجود ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا کہ کوئی بھی کسی کا نہیں نہیں ہوتا دراصل انسان کی عظمت اور رشتۂ انسانیت کا اعتراف ہے۔

آج کے دور میں انسان خود کو “خود ساختہ” کہلوانا پسند کرتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی کامیابی صرف ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر کامیابی کے پیچھے بے شمار گمنام ہاتھ ہوتے ہیں۔ ایک ماں کی جاگتی ہوئی راتیں، ایک باپ کی خاموش محنت، استاد کی رہنمائی، مزدور کے پسینے سے بنی ہوئی سڑکیں، کسان کی اگائی ہوئی روٹی — یہ سب کسی ایک انسان کی تعمیر میں شامل ہوتے ہیں۔

انسان صرف اپنا وجود نہیں، اپنے پورے ماضی کا نمائندہ ہوتا ہے۔

جو بچہ یتیم ہو جائے، وہ بھی انسانیت کی اولاد رہتا ہے۔ جس شخص کا خاندان بکھر جائے، وہ بھی تہذیب، زبان اور تاریخ کے رشتوں سے جڑا رہتا ہے۔ انسان اکیلا نظر آ سکتا ہے، مگر حقیقت میں وہ کروڑوں سانسوں کے تسلسل کا حصہ ہوتا ہے۔

یہ خیال ہمیں دوسروں کے لیے احترام سکھاتا ہے۔
جب ہم کسی غریب کو حقیر سمجھتے ہیں تو دراصل کسی ماں کی امید کی توہین کرتے ہیں۔ جب ہم کسی مزدور کی بے عزتی کرتے ہیں تو کسی باپ کی عمر بھر کی جدوجہد کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ہر انسان کسی کا خواب ہوتا ہے، کسی کی دعا، کسی کی محبت۔

معاشرہ اُس وقت بے رحم بن جاتا ہے جب وہ انسانوں کو صرف اعداد و شمار سمجھنے لگتا ہے۔ جنگیں اسی وقت آسان ہوتی ہیں جب دشمن کو “انسان” کے بجائے “ہجوم” کہا جائے۔ ظلم اسی وقت بڑھتا ہے جب چہروں کے پیچھے موجود کہانیاں بھلا دی جائیں۔

قدرت نے انسان کو تنہا پیدا نہیں کیا۔
ہمارا خون نسلوں کی مسافت طے کر کے ہم تک پہنچتا ہے۔ ہمارے الفاظ صدیوں کی زبانوں سے نکلتے ہیں۔ ہمارے خیالات اُن لوگوں کی میراث ہوتے ہیں جو ہم سے پہلے گزر چکے ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہر انسان احترام کے قابل ہے۔

کوئی فقیر ہو یا بادشاہ، مزدور ہو یا عالم، عورت ہو یا مرد — ہر ایک اپنے ساتھ ایک پورا جہان لے کر چلتا ہے۔ ہر انسان کے پیچھے دعاؤں کی ایک تاریخ ہوتی ہے۔

انسانیت کا حسن اسی احساس میں ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

کوئی بھی کسی کا نہیں نہیں ہوتا۔
ہر شخص کسی نہ کسی کا خواب، خون، تسلسل اور یاد ہوتا ہے۔

No comments:

Post a Comment