بدعنوانی—قومی کھیل
بدعنوانی
صرف ایک جرم نہیں رہی، یہ ایک رویہ، ایک عادت اور بعض جگہوں پر ایک مکمل نظام بن
چکی ہے۔ جب رشوت کو “کام تیز کرنے کا طریقہ” سمجھ لیا جائے، جب سفارش میرٹ پر غالب
آ جائے، اور جب قانون کمزور اور پیسہ طاقتور ہو جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ
معاشرہ بگاڑ کی طرف نہیں بلکہ بگاڑ کے اندر رہنے کا عادی ہو چکا ہے۔
یہ
کھیل سب کھیلتے ہیں—کچھ مجبوری میں، کچھ فائدے میں، اور کچھ خاموشی میں۔ مگر نتیجہ
سب کے لیے ایک ہی ہوتا ہے: اعتماد کا خاتمہ، اداروں کی کمزوری، اور انصاف کی شکست۔
بدعنوانی
کی سب سے خطرناک شکل وہ ہے جو روزمرہ زندگی میں چھپی ہوتی ہے: چھوٹے چھوٹے فیصلے،
معمولی رعایتیں، اور وہ خاموش سمجھوتے جو آہستہ آہستہ ایک قوم کی روح کھوکھلی کر
دیتے ہیں۔
جب
سچائی کمزور اور فائدہ مضبوط ہو جائے، تو معاشرے ترقی نہیں کرتے—وہ صرف چلتے رہتے
ہیں، اندر سے ٹوٹتے ہوئے۔
No comments:
Post a Comment