خالی پیٹ، عقل کیا؟ محبت کیسی؟
کبھی یہ عزت کو کھا جاتی ہے،
کبھی خوابوں کو،
بھوک صرف معدے میں نہیں لگتی۔اور کبھی انسان کے اندر بچی ہوئی محبت کو بھی۔
جب
پیٹ خالی ہو تو فلسفے روٹی مانگتے ہیں۔
شاعری سالن ڈھونڈتی ہے۔
اور محبت…
محبت اکثر چولہے کی راکھ میں دب جاتی ہے۔
انسان
پہلے زندہ رہنا سیکھتا ہے،
پھر جینا۔
اور محبت تو شاید جینے کے بعد کی زبان ہے۔
غریب
آدمی کی محبت بھی عجیب ہوتی ہے—
وہ محبوب کو پھول نہیں دیتا،
بلکہ اپنی بھوک کا آدھا حصہ بانٹ دیتا ہے۔
یہی اس کی وفا ہے۔
یہی اس کا عشق۔
معاشرہ
اکثر محبت کے قصے امیروں کی زبان میں لکھتا ہے،
حالانکہ سب سے سچی محبت
اکثر اُن گھروں میں پلتی ہے
جہاں چائے ایک کپ ہوتی ہے
اور پینے والے دو۔
No comments:
Post a Comment