Sindh

Sindh

Sunday, 10 May 2026

آنند ہوں اکیلا صدیوں سے کروڑوں میں .... اکشر


آنند ہوں اکیلا صدیوں سے کروڑوں میں

انسان ہمیشہ ہجوم میں جینے کا عادی رہا ہے۔ وہ قبیلوں، خاندانوں، شہروں اور قوموں میں اپنی شناخت تلاش کرتا آیا ہے۔ مگر تاریخ میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں جو لاکھوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اندر سے تنہا ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ، احساس، خواب اور دکھ عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر دنیا کا حصہ ہوتے ہیں، مگر روحانی طور پر ایک الگ جہان میں بستے ہیں۔
آنند ہوں اکیلا صدیوں سے کروڑوں میں” ایک ایسا ہی احساس ہے۔ یہ جملہ صرف تنہائی کا نوحہ نہیں بلکہ اپنی انفرادیت کا اعتراف بھی ہے۔

بعض لوگ مجمع میں کھڑے ہو کر بھی خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کے اندر ایک ایسا سمندر موجزن ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ دنیا کے شور میں بھی اپنی خاموشی کو سن رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے تعلقات صرف جسمانی قربت نہیں بلکہ روح کی ہم آہنگی ہوتے ہیں۔ جب یہ ہم آہنگی نہ ملے تو انسان کروڑوں میں بھی اکیلا رہ جاتا ہے۔

آج کے دور میں یہ تنہائی اور بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے ہجوم میں ہر شخص دکھائی تو دیتا ہے مگر سمجھا کم جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی تصویروں کو جانتے ہیں، مگر روحوں کو نہیں۔ ہر طرف رابطے ہیں مگر تعلق کم ہیں۔ ایسے میں حساس انسان اپنے اندر سمٹتا جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کا مسافر بن جاتا ہے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے مگر دل میں صدیوں کی تھکن۔

لیکن یہ تنہائی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہی اکیلا پن تخلیق کا سرچشمہ بنتا ہے۔ بڑے شاعر، صوفی، فلسفی اور فنکار اکثر اپنی داخلی تنہائی میں ہی عظمت پیدا کرتے ہیں۔ وہ دنیا سے کٹ کر انسانیت کے لیے روشنی تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی کتاب بن جاتی ہے، ان کا درد شاعری اور ان کی تنہائی ایک نئی فکر۔

آنند ہوں اکیلا صدیوں سے کروڑوں میں” دراصل اس شخص کی آواز ہے جو اپنے زمانے سے آگے چل رہا ہے۔ لوگ اسے سمجھنے میں دیر لگا دیتے ہیں۔ وہ ہجوم میں شامل تو ہوتا ہے مگر ہجوم کا حصہ نہیں بنتا۔


No comments:

Post a Comment