بعض
لوگ مجمع میں کھڑے ہو کر بھی خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کے اندر ایک ایسا سمندر
موجزن ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ دنیا کے شور میں بھی
اپنی خاموشی کو سن رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے تعلقات صرف جسمانی قربت نہیں بلکہ روح
کی ہم آہنگی ہوتے ہیں۔ جب یہ ہم آہنگی نہ ملے تو انسان کروڑوں میں بھی اکیلا رہ
جاتا ہے۔
آج
کے دور میں یہ تنہائی اور بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے ہجوم میں ہر شخص دکھائی تو
دیتا ہے مگر سمجھا کم جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی تصویروں کو جانتے ہیں، مگر روحوں
کو نہیں۔ ہر طرف رابطے ہیں مگر تعلق کم ہیں۔ ایسے میں حساس انسان اپنے اندر سمٹتا
جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کا مسافر بن جاتا ہے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے مگر دل
میں صدیوں کی تھکن۔
لیکن
یہ تنہائی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہی اکیلا پن تخلیق کا سرچشمہ بنتا
ہے۔ بڑے شاعر، صوفی، فلسفی اور فنکار اکثر اپنی داخلی تنہائی میں ہی عظمت پیدا
کرتے ہیں۔ وہ دنیا سے کٹ کر انسانیت کے لیے روشنی تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی
کتاب بن جاتی ہے، ان کا درد شاعری اور ان کی تنہائی ایک نئی فکر۔
“آنند ہوں
اکیلا صدیوں سے کروڑوں میں” دراصل اس شخص کی آواز ہے جو اپنے زمانے سے آگے چل رہا
ہے۔ لوگ اسے سمجھنے میں دیر لگا دیتے ہیں۔ وہ ہجوم میں شامل تو ہوتا ہے مگر ہجوم
کا حصہ نہیں بنتا۔
No comments:
Post a Comment