Sindh

Sindh

Friday, 1 May 2026

"جگت چیتنا ہوں، انادی اننتا" ... اکشر


 

"جگت چیتنا ہوں، انادی اننتا"

"جگت چیتنا ہوں، انادی اننتا" محض ایک مصرعہ نہیں بلکہ ایک کائناتی اعلان ہے—ایک ایسی صدا جو انسان کو اس کی محدود شناخت سے نکال کر لامحدود شعور سے جوڑتی ہے۔ یہ فقرہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان محض گوشت پوست کا پیکر نہیں بلکہ ایک شعوری وجود ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔

"جگت چیتنا" یعنی کائناتی شعور—وہ وحدت جس میں ہر ذرے کی دھڑکن، ہر ستارے کی گردش، اور ہر سانس کی روانی شامل ہے۔ انسان جب خود کو اس شعور کا حصہ سمجھتا ہے تو اس کی انا تحلیل ہونے لگتی ہے، اور وہ خود کو ایک وسیع تر حقیقت میں گھلا ہوا محسوس کرتا ہے۔

"انادی اننتا" کا مطلب ہے نہ آغاز نہ اختتام۔ یہ تصور وقت اور مکان کی قید سے آزاد ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری اصل حقیقت نہ تو پیدا ہوئی ہے اور نہ ہی فنا ہوگی۔ جسم بدلتے ہیں، صورتیں مٹتی ہیں، مگر شعور کا یہ دریا ہمیشہ بہتا رہتا ہے۔

یہ فکر ہمیں خوف سے نجات دیتی ہے—خاص طور پر موت کے خوف سے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ ایک لافانی شعور کا حصہ ہے تو زندگی کے دکھ، محرومیاں، اور آزمائشیں ایک نئے زاویے سے دکھائی دینے لگتی ہیں۔ وہ ہر لمحے کو ایک مقدس تجربہ سمجھنے لگتا ہے۔

یہی شعور انسان کو دوسروں کے قریب بھی لاتا ہے، کیونکہ جب سب ایک ہی "جگت چیتنا" کا حصہ ہیں تو تفریق بے معنی ہو جاتی ہے۔ نفرت، تعصب، اور خود غرضی اپنی بنیاد کھو دیتے ہیں، اور محبت، ہمدردی، اور یگانگت جنم لیتی ہے۔

No comments:

Post a Comment