Sindh

Sindh

Friday, 1 May 2026

یہ کائنات فقط کوئی سامان تو نہیں ... اکشر

 

غزل

یہ کائنات فقط کوئی سامان تو نہیں
ہر شے میں ایک دل ہے، یہ بے جان تو نہیں

دریا بھی گفتگو میں ہے، خاموش کیوں لگے
پتھر بھی سن رہا ہے، یہ ویران تو نہیں

ہم نے اسے سمجھا تھا فقط چیز اک کبھی
یہ راز کھل گیا ہے، یہ آسان تو نہیں

ہر ذرہ بولتا ہے، اگر سننے والا ہو
یہ سب ہے زندہ، محض یہ امکان تو نہیں

رشتہ ہے سب کا سب سے، جدا کچھ بھی نہیں
یہ کارواں ہے، کوئی بیابان تو نہیں

RST

No comments:

Post a Comment