غزل
تم
تو دل کے تار چھیڑ کر ہو گئے بےخبر
ہم نے ہر اک سُر میں ڈھونڈا ہے تمہارا اثر
ایک
لمحہ تم نے یوں ہی مسکرا کر دے دیا
ہم نے اس لمحے میں ڈھونڈی اپنی پوری عمر
خامشی
میں بھی سنائی دیتی ہے وہی صدا
تم گئے تو ساتھ لے گئے دل کا ہر ہنر
تم
کو شاید یہ خبر بھی ہو نہ پائی آج تک
کس طرح بکھرا ہے اندر اک محبت کا نگر
ہم
نے چاہا بھی تو کیسے تم کو بھلا دیتے
ہر طرف پھیلا ہوا ہے تمہاری یاد کا سفر
بےخبری
بھی کبھی اتنی حسین ہوتی ہے
ایک دکھ میں بھی چھپا ہوتا ہے جینے کا ہنر
تم
تو چلے گئے یونہی چھوڑ کر ہم کو مگر
ہم ابھی تک ہیں اسی دھن میں کہیں دربدر
No comments:
Post a Comment