غزل — جہدِ مسلسل
منزلوں تک پہنچا دیتی ہے
جہدِ مسلسل
راہ کو خود سجا دیتی ہے
جہدِ مسلسل
گر قدم تھک بھی جائیں
تو حوصلہ مت کھونا
دل کو پھر سے جگا دیتی
ہے جہدِ مسلسل
سنگلاخ راستوں میں بھی
کھِل اٹھتے ہیں گل
خار کو بھی ہنسا دیتی
ہے جہدِ مسلسل
رات جتنی بھی گہری ہو،
ڈر نہیں رہتا
صبح کی نوید سنا دیتی
ہے جہدِ مسلسل
جو نہ مانے شکست کو،
وہی سرخرو ٹھہرا
قسمتیں بھی بنا دیتی ہے
جہدِ مسلسل
زندگی کی کتاب میں
سنہری سطور لکھ دے
نام اپنا سجا دیتی ہے
جہدِ مسلسل ✨
No comments:
Post a Comment