غزل: وجود کا گواہ
میں خامشی میں بھی اک
داستان دیکھتا ہوں
میں زندگی کو فقط اک
نشان دیکھتا ہوں
یہ چاند، تارے، یہ
دریا، یہ آسمان کی وسعت
میں ان سبھی میں ترا ہی
جہان دیکھتا ہوں
ہر ایک لمحہ مجھے راز
سا لگتا ہے
میں وقت کے بھی کئی
امتحان دیکھتا ہوں
جو آنکھ جاگ گئی ہو
شعور کی حد تک
وہی تو کائنات کی پہچان
دیکھتا ہوں
میں خاک ہو کے بھی اس
راز سے جدا نہ ہوا
میں اپنے اندر ہی اک
آسمان دیکھتا ہوں
یہ زندگی بھی عجب آئینہ
دکھاتی ہے
میں خود کو دیکھوں تو
سارا جہان دیکھتا ہوں
No comments:
Post a Comment