طویل نظم
عقل کی راہوں میں
اکثر دھند اتر آتی ہے
دلائل کے چراغ جلتے ہیں
مگر روشنی مکمل نہیں ہوتی
سوچ کے جنگل میں
راستے بکھر جاتے ہیں
ہر درخت ایک دلیل بن جاتا ہے
ہر سایہ ایک سوال
عقل کہتی ہے
ٹھہرو
سوچو
تولو
پھر فیصلہ کرو
مگر دل
چپ چاپ
پہلے ہی جان لیتا ہے
جب کسی کی آنکھ میں آنسو دیکھو
تو دل فوراً پگھل جاتا ہے
عقل ابھی سوال ہی پوچھ رہی ہوتی ہے
جب محبت
بغیر آواز کے
دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے
تو دل اسے پہچان لیتا ہے
عقل ابھی تعریف تلاش کر رہی ہوتی ہے
کتنی عجیب بات ہے
کہ عقل کتابوں میں سچ ڈھونڈتی ہے
اور دل
ایک دھڑکن میں پا لیتا ہے
عقل راستے بناتی ہے
مگر دل انہیں معنی دیتا ہے
عقل کبھی کبھی
خود کو دھوکہ بھی دے دیتی ہے
مگر سچا دل
اپنے اندر کے آئینے کو
دھندلا نہیں ہونے دیتا
اگر کبھی
سوچ کی گلیوں میں
تم بھٹک جاؤ
تو ایک لمحہ رک کر
اپنے دل کی دھڑکن سننا
وہ تمہیں بتائے گی
کہ سچ کس سمت کھڑا ہے
کیونکہ عقل الجھ سکتی ہے
مگر دل
بہت کم جھوٹ بولتا ہے۔
No comments:
Post a Comment