Sindh

Sindh

Thursday, 16 April 2026

وہ زبان جسے بہرے سن سکتے ہیں اور اندھے دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ اکشر

وہ زبان جسے بہرے سن سکتے ہیں اور اندھے دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ اکشر

دنیا میں ایک ایسی زبان بھی موجود ہے جو لفظوں، آوازوں اور حروف کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ وہ زبان ہے جو دلوں کے درمیان بولی جاتی ہے۔ اسے سننے کے لیے کان ضروری نہیں اور نہ ہی اسے دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ زبان محبت، ہمدردی اور انسانیت کی زبان ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بات چیت صرف الفاظ اور آوازوں کے ذریعے ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے سب سے طاقتور پیغام خاموشی میں پہنچتے ہیں۔ کسی کے کندھے پر رکھا گیا تسلی بھرا ہاتھ، کسی اجنبی کے چہرے پر خلوص بھری مسکراہٹ، یا کسی پریشان انسان کے پاس خاموش بیٹھ جانا — یہ سب وہ جملے ہیں جو بغیر بولے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔

جو لوگ سن نہیں سکتے، وہ بھی مہربانی کے انداز کو محسوس کر لیتے ہیں۔ اور جو دیکھ نہیں سکتے، وہ بھی محبت کے لمس میں روشنی پا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کی اصل زبان وہ ہے جو احساس کے ذریعے سمجھی جاتی ہے۔

یہ زبان کسی ایک قوم، مذہب یا ثقافت کی نہیں۔ یہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگاتی ہے، جب کوئی شخص بھوکے کو کھانا دیتا ہے، یا جب کوئی دوست مشکل وقت میں خاموش ساتھ دیتا ہے، تب یہی زبان بولی جا رہی ہوتی ہے۔

یہی وہ زبان ہے جسے بہرے سن سکتے ہیں اور اندھے دیکھ سکتے ہیں۔


 



No comments:

Post a Comment