طویل
نظم
دعا ہے
کہ جب بدی کی آندھیاں
اٹھیں
تو تمہارا دروازہ
ان کے نقشوں میں شامل
نہ ہو۔
دعا ہے
کہ حسد کے قدم
تمہاری گلی تک پہنچتے
پہنچتے
اپنا راستہ بھول جائیں۔
کہ نفرت
کسی ویران موڑ پر
خود سے ہی سوال کرتی رہ
جائے
اور تمہاری دہلیز تک نہ
آئے۔
تمہارا گھر
روشنی سے بھرا رہے
جہاں مسکراہٹ
چراغ کی طرح جلتی ہو
اور مہربانی
ہوا کی طرح بہتی ہو۔
اگر ظلم سفر پر نکلے
تو راستوں کی دھول
اس کی آنکھوں میں بھر
جائے۔
اگر بد دعا چل پڑے
تو الفاظ اس کی زبان سے
گر کر ٹوٹ جائیں۔
اور
تمہارا گھر
ایک ایسی جگہ بن جائے
جہاں صرف سکون
اپنا راستہ پہچانتا ہو۔
No comments:
Post a Comment