غزل
کیا کسی نے دیکھا میرا
کو مندر میں
وہ تو ملتی ہے عاشقوں
کے اندر میں
اس کی پوجا نہ تھی کسی
رسم کی قید
آگ جلتی تھی اس کے دل
کے سمندر میں
گھنٹیوں سے نہیں جاگا
تھا اس کا عشق
نامِ کرشن تھا ہر
دھڑکتے منظر میں
لوگ پتھر کے بت کے آگے
جھکتے رہے
وہ کھڑی تھی محبت کے
سمندر میں
مندر و مسجد کی حدیں
ٹوٹ گئیں
جب بھی دیکھا اسے کسی
کے دل کے اندر میں
عشق جب حد سے بڑھ گیا
آخر
خدا خود اتر آیا اس کے منظر میں
No comments:
Post a Comment