آواز اور روشنی
کائنات کے ابتدائی لمحوں میں
جب خاموشی نے ابھی سانس لینا سیکھا تھا
اور اندھیرے نے ابھی آنکھیں نہیں کھولی تھیں
تب کہیں دور
ایک لرزش پیدا ہوئی تھی
وہی پہلی آواز تھی
جو خلا کے سینے میں گونجی
اور پھر روشنی نے
اپنے سنہرے قدم رکھے
تب سے
آواز سفر میں ہے
اور روشنی بھی
آواز
کبھی ماں کی لوری بن جاتی ہے
کبھی دریا کی سرگوشی
کبھی پرندوں کی صبح کی دعا
اور روشنی
کبھی سورج کا تاج پہن لیتی ہے
کبھی چاند کی نرم چادر اوڑھ لیتی ہے
کبھی ستاروں کی آنکھوں میں جاگتی رہتی ہے
جب بجلی آسمان میں چمکتی ہے
تو روشنی ایک لمحے میں زمین کو چھو لیتی ہے
اور آواز
کچھ دیر بعد آ کر
اپنی موجودگی کا اعلان کرتی ہے
ان دونوں کے درمیان
ایک خاموش رشتہ ہے
روشنی دکھاتی ہے
اور آواز سناتی ہے
روشنی کہتی ہے
دیکھو
یہ دنیا کتنی وسیع ہے
اور آواز کہتی ہے
سنو
یہ زندگی کتنی گہری ہے
ان دونوں کے سنگم پر
انسان کھڑا ہے
ایک ہاتھ میں خواب
اور دوسرے میں سوال
وہ دیکھتا بھی ہے
اور سنتا بھی ہے
اور
اسی لمحے
زندگی
ایک مکمل نظم بن جاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment