ڈیجیٹل انسان
اکیسویں صدی نے انسان کی ایک نئی صورت
پیدا کی ہے جسے ہم ڈیجیٹل انسان کہہ سکتے ہیں۔ یہ انسان صرف جسم اور روح تک
محدود نہیں رہا بلکہ اس کی شناخت ڈیٹا، اسکرین، نیٹ ورک اور الگورتھم سے بھی جڑ
گئی ہے۔
آج کا انسان صبح آنکھ کھولتے ہی
موبائل فون دیکھتا ہے اور رات کو سونے سے پہلے بھی اسی اسکرین کے ساتھ ہوتا ہے۔
موبائل فون ایک ایسا آئینہ بن چکا ہے جس میں انسان اپنی زندگی، تعلقات اور خیالات
کو دیکھتا اور دکھاتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا نے علم کو بے حد وسیع کر
دیا ہے۔ ایک طالب علم جو کسی دور دراز گاؤں میں رہتا ہے وہ بھی دنیا کی بڑی
یونیورسٹیوں کے لیکچر سن سکتا ہے۔ معلومات کی رفتار نے فاصلے ختم کر دیے ہیں۔
لیکن اس ترقی کے ساتھ کئی تضادات بھی
پیدا ہوئے ہیں۔ لوگ بظاہر پہلے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں مگر اندر سے زیادہ تنہا بھی
ہو گئے ہیں۔ دوستوں کی تعداد فالوورز میں گنی جاتی ہے مگر حقیقی قربت کم ہوتی جا
رہی ہے۔
ڈیجیٹل انسان کی ایک اور حقیقت اس کا ڈیجیٹل
سایہ ہے۔ ہر کلک، ہر تلاش اور ہر پیغام ایک نشان چھوڑتا ہے۔ یہ نشان بڑی
کمپنیوں اور نظاموں کے پاس جمع ہوتے رہتے ہیں اور وہی معلومات ہماری پسند، ہماری
رائے اور بعض اوقات ہماری سیاست تک کو متاثر کرتی ہیں۔
اس لیے ڈیجیٹل انسان کے سامنے اصل
سوال یہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو استعمال کرے مگر اپنی انسانیت کو نہ کھوئے۔ مشینیں معلومات
کو سمجھ سکتی ہیں مگر محبت اور ہمدردی کو محسوس نہیں کر سکتیں۔
آخرکار انسان کو یاد رکھنا ہوگا کہ ہر
اسکرین کے پیچھے ایک دل دھڑکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment