طویل نظم
زبان نرم سی شے ہے
کوئی ہڈی نہیں اس میں
مگر یہ تلوار بھی بن جاتی ہے
اور مرہم بھی۔
کبھی یہ ماں کی دعا بن کر
بیٹے کی پیشانی پر اترتی ہے
اور تھکے ہوئے دل کو
آسودگی کا لمس دیتی ہے۔
کبھی یہ دوست کی آواز میں
حوصلہ بن کر گونجتی ہے
اور شکستہ قدموں کو
پھر سے سفر پر آمادہ کر دیتی ہے۔
مگر کبھی
اسی زبان سے نکلے ہوئے لفظ
کانچ کے ٹکڑوں کی طرح
دل کے آئینے میں پیوست ہو جاتے ہیں۔
ایک طنز
ایک تلخ جملہ
ایک بے سوچا لفظ
کسی کی پوری زندگی کا سکون چرا لیتا ہے۔
کتنے ہی رشتے
ایک لمحے کی بات سے
ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔
کتنے ہی دل
ایک سخت لفظ کے بوجھ تلے
خاموشی کی قبر میں اتر جاتے ہیں۔
اے انسان!
بولنے سے پہلے سوچ
کیونکہ تیر کمان سے نکل جائے
تو واپس نہیں آتا
اور لفظ
ہونٹوں سے نکل جائے
تو دلوں میں ٹھہر جاتا ہے۔
زبان کو دعا بنا
محبت بنا
روشنی بنا
تاکہ تیرے لفظ
دلوں کو زخمی نہ کریں
بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو
جوڑنے کا ہنر سیکھ جائیں۔
No comments:
Post a Comment