Sindh

Sindh

Wednesday, 8 April 2026

جوڑنے کا ہنر سیکھ جائیں۔ AKSHR

 




طویل نظم

زبان نرم سی شے ہے
کوئی ہڈی نہیں اس میں
مگر یہ تلوار بھی بن جاتی ہے
اور مرہم بھی۔

کبھی یہ ماں کی دعا بن کر
بیٹے کی پیشانی پر اترتی ہے
اور تھکے ہوئے دل کو
آسودگی کا لمس دیتی ہے۔

کبھی یہ دوست کی آواز میں
حوصلہ بن کر گونجتی ہے
اور شکستہ قدموں کو
پھر سے سفر پر آمادہ کر دیتی ہے۔

مگر کبھی
اسی زبان سے نکلے ہوئے لفظ
کانچ کے ٹکڑوں کی طرح
دل کے آئینے میں پیوست ہو جاتے ہیں۔

ایک طنز
ایک تلخ جملہ
ایک بے سوچا لفظ
کسی کی پوری زندگی کا سکون چرا لیتا ہے۔

کتنے ہی رشتے
ایک لمحے کی بات سے
ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔

کتنے ہی دل
ایک سخت لفظ کے بوجھ تلے
خاموشی کی قبر میں اتر جاتے ہیں۔

اے انسان!
بولنے سے پہلے سوچ
کیونکہ تیر کمان سے نکل جائے
تو واپس نہیں آتا

اور لفظ
ہونٹوں سے نکل جائے
تو دلوں میں ٹھہر جاتا ہے۔

زبان کو دعا بنا
محبت بنا
روشنی بنا

تاکہ تیرے لفظ
دلوں کو زخمی نہ کریں
بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو
جوڑنے کا ہنر سیکھ جائیں۔


No comments:

Post a Comment