غزل — کیوبزم کے رنگ
ٹوٹے ہوئے زاویوں میں تصویر بناتے
ہیں
ہم خواب کو کینوس پہ تعبیر بناتے ہیں
ہر رخ سے نظر آتا ہے اک چہرہ
حقیقت کا
ہم وقت کو لمحوں کی زنجیر بناتے ہیں
بکھرے ہوئے رنگوں میں بھی معنی کی
چمک دیکھو
ہم خاک کو فن کی نئی تقدیر بناتے ہیں
اک آنکھ ہے ماضی میں، اک حال کے
پردے میں
ہم لمحۂ موجود کو تصویر بناتے ہیں
شفقؔ یہ ہنر سیکھا فنکار کی دنیا سے
ہم ٹوٹے ہوئے خواب کو تعبیر بناتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment