غزل
دل میں ہر وقت تمہارا
ہی خیال آتا ہے
یوں لگے جیسے مجھے تم
سے وصال آتا ہے
صبح ہوتی ہے تو تم یاد
چلے آتے ہو
شام ڈھلتی ہے تو پھر
وہی سوال آتا ہے
کوئی لمحہ بھی تمہارے
بنا خالی نہ رہا
ہر طرف بس تمہارا ہی
جمال آتا ہے
دور رہ کر بھی تم اتنے
مرے دل میں ہو
ہر خیالوں میں تمہارا
ہی خیال آتا ہے
یہ محبت کی حقیقت ہے کہ
اے دل والے
ہر گھڑی اس کو کسی کا
ہی خیال آتا ہے
No comments:
Post a Comment