Sindh

Sindh

Friday, 10 April 2026

“ذہن کے بادل اور دل کی بینائی” ... AKSHR

 




“ذہن کے بادل اور دل کی بینائی

انسان کا ذہن ایک وسیع آسمان کی مانند ہے، جس میں خیالات بادلوں کی طرح آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ لیکن جب یہی بادل حد سے زیادہ گہرے ہو جائیں تو ذہن پر ایک دھند چھا جاتی ہے۔

اس دھند میں سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔ کان جو کچھ سنتے ہیں وہ کھٹکنے لگتا ہے، بات اپنی اصل صورت کھو دیتی ہے۔ زبان صحیح اظہار کی بجائے ردِعمل دینے لگتی ہے، کبھی تلخی میں، کبھی الجھن میں۔ اور دل—جو اصل بصیرت کا مرکز ہے—اندھا سا ہو جاتا ہے۔ وہ احساسات کو صاف طور پر نہیں دیکھ پاتا، بلکہ خوف اور تکلیف کے سائے میں فیصلہ کرتا ہے۔

یہ ذہنی بادل مستقل نہیں ہوتے۔ یہ تب بنتے ہیں جب ہم اپنے اندر شور، دبے ہوئے جذبات اور غیر حل شدہ خیالات جمع کر لیتے ہیں۔ خاموشی، خود آگاہی اور سچائی اس دھند کو چھانٹنے والی ہوائیں ہیں۔

جب ذہن صاف ہو جائے تو کان سننے لگتے ہیں، زبان سمجھنے لگتی ہے، اور دل دوبارہ دیکھنے لگتا ہے۔


No comments:

Post a Comment